بھارت کی ریاست جھارکھنڈ سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی نے شاید اپنی شادی کو لے کر کئی خواب سجا رکھے ہوں گے۔ محبت، اعتبار، اور ایک ساتھ زندگی گزارنے کی امید لیے جب اس نے اپنے خوابوں کا شہزادہ چنا، تو اسے کیا معلوم تھا کہ حقیقت اتنی تلخ بھی ہو سکتی ہے۔
یہ کہانی شروع ہوئی فیس بک سے، جہاں اسے اتر پردیش کے ایک نوجوان کی جانب سے دوستی کی درخواست موصول ہوئی۔ لڑکی نے ریکویسٹ قبول کی، بات چیت شروع ہوئی، ویڈیو کالز ہوئیں اور آہستہ آہستہ ایک خوبصورت دوستی نے محبت کا روپ اختیار کر لیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دل دے دیا اور پھر شادی کا فیصلہ کر لیا۔
چند روز بعد، دونوں نے مندر میں سات پھیرے لیے اور رشتہ باقاعدہ طور پر جُڑ گیا۔ شادی کے فوراً بعد دولہا اپنے گھر واپس چلا گیا، اور کچھ دنوں بعد جب دلہن اپنے سسرال پہنچی — تو وہ لمحہ اس کے لیے ایک ایسا زخم بن گیا جس کا بھرنا آسان نہیں۔
دولہے نے اُسے دیکھ کر حیرت سے کہا: معاف کیجیے، آپ کون ہیں؟ میں آپ کو نہیں جانتا۔
یہ الفاظ اس لڑکی کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھے۔ وہ بے یقینی کے عالم میں بلک بلک کر رونے لگی، اور پھر احتجاجاً سسرال کے دروازے پر دھرنے پر بیٹھ گئی۔ جلد ہی اہلِ علاقہ کا ہجوم جمع ہو گیا، اور پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔
لڑکی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنا سب کچھ — حتیٰ کہ اپنے ماں باپ کا گھر بھی — صرف اسی لڑکے کی محبت میں چھوڑ دیا تھا۔ اس نے امید کی تھی کہ سسرال والے اُسے اپنی بہو کے طور پر قبول کریں گے، لیکن اُسے تو پہچاننے سے بھی انکار کر دیا گیا۔
اس نے پولیس کو بتایا کہ لڑکے نے فیس بک پر اس سے محبت کا دعویٰ کیا، شادی کی، اور اب مکمل طور پر مکر گیا ہے۔ لڑکی نے انصاف کی اپیل کی ہے، اور مطالبہ کیا ہے کہ اُسے اس دھوکے کا جواب چاہیے۔
پولیس کے مطابق معاملے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں، خاص طور پر شادی کے قانونی پہلوؤں پر بھی نظر ڈالی جائے گی۔ اگر الزامات درست ثابت ہوئے، تو لڑکے کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بننے والے تعلقات کے ان پہلوؤں کو سامنے لاتا ہے، جہاں بظاہر سب کچھ خوبصورت اور خوشگوار لگتا ہے، مگر انجام ایک شدید دھوکہ اور کرب کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
ایسے واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ جذباتی فیصلے کرتے وقت صرف دل نہیں، دماغ سے بھی کام لینا ضروری ہے — کیونکہ محبت صرف جذبات کا نہیں، ذمہ داری کا بھی نام ہے۔









