بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آسمان پر عجیب منظر،رات کا اندھیرا دن کی روشنی میں تبدیل ، شہری حیرت زدہ

  جاپان کی فضاؤں میں گزشتہ رات ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس نے دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ رات تقریباً 11 بجے کے بعد، مغربی جاپان کے آسمان پر ایک غیر معمولی طور پر روشن شہابِ ثاقب ظاہر ہوا، جو شعلے کی مانند آسمان کو چیرتا ہوا گزرا۔ اس کی روشنی اتنی شدید تھی کہ کچھ لمحوں کے لیے رات کا اندھیرا دن کی روشنی میں بدل گیا۔
یہ شاندار اور حیران کن فلکیاتی مظہر نہ صرف آنکھوں کو خیرہ کر گیا بلکہ درجنوں کیمروں نے اسے محفوظ بھی کر لیا۔ چند ہی لمحوں میں اس “آگ کے گولے” کی ویڈیوز اور تصاویر انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئیں، جہاں لوگ اس کی خوبصورتی اور پراسرار کیفیت پر تبصرے کرتے نظر آئے۔
سندائی اسپیس میوزیم کے سربراہ توشیہِسا مائدہ کے مطابق، یہ شہابِ ثاقب غیر معمولی طور پر روشن تھا اور اندازہ ہے کہ یہ بحرالکاہل میں جا گرا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض علاقوں میں اس کے گزرنے سے معمولی فضائی ارتعاش بھی محسوس کیا گیا، جبکہ اس کی روشنی اتنی تیز تھی کہ کئی ماہرین نے اسے مکمل چاند کے برابر قرار دیا۔
ماہرین فلکیات کے مطابق اس قسم کے شہابِ ثاقب، جنہیں “فائربال” یا بولائیڈ کہا جاتا ہے، عموماً ایک میٹر یا اس سے بڑے ہوتے ہیں۔ جب یہ زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہیں تو ہوا سے رگڑ کھا کر شعلہ بن جاتے ہیں، اور نہ صرف شدید روشنی بلکہ بعض اوقات زور دار آواز بھی پیدا کرتے ہیں۔
یہ جاپان میں ایسا پہلا منظر نہیں۔ نومبر 2024 میں بھی ٹوکیو کے قریب اسی نوعیت کا ایک شہابِ ثاقب دیکھا گیا تھا۔ اس سے قبل اسپین، پرتگال (2023) اور روس کے شہر چیلیابنسک (2013) میں بھی اسی طرح کے فلکیاتی مظاہر نے نہ صرف آسمان کو روشن کیا بلکہ بعض اوقات زمین پر نقصان بھی پہنچایا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ واقعات فلکیاتی اعتبار سے معمول کا حصہ ہیں، مگر جب ایسے مناظر انسانی آنکھ کے سامنے آتے ہیں تو وہ بیک وقت دلکش، خوفناک اور ناقابلِ فراموش محسوس ہوتے ہیں۔ ایک لمحہ ایسا لگتا ہے جیسے قدرت نے آسمان پر کوئی خفیہ دروازہ کھول دیا ہو، جس سے روشنی کا سیلاب بہہ نکلا ہو۔