ناسا کی جدید جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے نظامِ شمسی کے ساتویں سیارے “یورینس” کے گرد گردش کرنے والا ایک نیا چاند دریافت کر لیا ہے، جو اب تک اس سیارے کا 29 واں معلوم شدہ چاند بن چکا ہے۔
ماہرینِ فلکیات کے مطابق، یہ نیا چاند تقریباً 10 کلومیٹر چوڑا ہے — یعنی اتنا چھوٹا کہ اب تک انسانی نظروں سے اوجھل رہا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس کی سادہ ساخت اور مدھم روشنی شاید وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر یہ وائجر 2 جیسے تاریخی خلائی مشنز کی نگاہ سے بھی بچ گیا۔
تحقیق میں شامل سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یورینس کے گرد مزید چھوٹے چاند بھی موجود ہو سکتے ہیں، جنہیں اب تک دریافت نہیں کیا جا سکا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یورینس کے پاس نظامِ شمسی کے دیگر سیاروں کی نسبت سب سے زیادہ چھوٹے اور اندرونی چاند موجود ہیں، جو اسے سائنسی تحقیق کے لیے ایک منفرد سیارہ بنا دیتے ہیں۔
یہ نئی دریافت نہ صرف خلائی سائنس کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ کائنات کے راز ابھی مکمل طور پر ہم پر آشکار نہیں ہوئے — اور شاید خلا کی خاموشی میں کئی اور چھوٹے چاند ہماری دریافت کے منتظر ہیں۔
نظامِ شمسی کے ساتویں سیارے یورینس کا نیا چاند دریافت








