بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سرکاری اداروں میں376 کھرب کی مالی بے ضابطگیوں کا بھانڈا پھوٹ گیا

 آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مالی سال 2024-25 کی تفصیلی آڈٹ رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں سرکاری اداروں میں 376 کھرب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔ رپورٹ 4,879 صفحات پر مشتمل ہے اور یہ پاکستان کے مالی نظم و نسق پر کئی سنجیدہ سوالات اٹھا رہی ہے۔
رپورٹ کی اہم جھلکیاں کچھ یوں ہیں
پیپرا قوانین کی خلاف ورزیاں 284 کھرب روپے کی بے ضابطگیاں صرف سرکاری خریداری کے قوانین (PEPRA) کی خلاف ورزیوں کے باعث ہوئیں۔
سول ورکس میں ناقص کارکردگی تاخیر، غیر معیاری یا نامکمل تعمیراتی منصوبوں کے باعث 85 کھرب روپے کی بے ضابطگیاں رپورٹ ہوئیں۔
واجبات و ریکوری میں ناکامی 2.5 کھرب روپے ریکور نہ ہو سکے۔
سرکلر ڈیٹ کی عدم ادائیگی200 ارب روپے کا نقصان صرف سرکلر ڈیٹ کے تصفیے میں ناکامی کی وجہ سے ہوا۔
قوانین کی خلاف ورزیاں اور اندرونی کنٹرول کی کمزوریاںبالترتیب 958 ارب اور 677 ارب روپے کی بے ضابطگیاں۔
دیگر اہم نکات
ناقص اثاثہ جات مینجمنٹ کے باعث 678 ارب روپے، جبکہ کمزور کنٹریکٹ مینجمنٹ کے باعث 280 ارب روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔
سروس ڈیلیوری اور ویلیو فار منی (Value for Money) کے مسائل سے 73 ارب روپے کا نقصان۔
حکومتی حصص کی عدم وصولی سے 47 ارب، زمینوں پر قبضے اور غیر قانونی استعمال سے 44.56 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
زائد ادائیگیوں اور ریکوری میں کمی سے 44.54 ارب روپے کا بوجھ عوامی خزانے پر پڑا۔
رپورٹ میں مزید انکشافات
غیر مجاز اخراجات سے 27.89 ارب، ایچ آر و ملازمین سے متعلق مسائل کی وجہ سے 26.99 ارب، اور غیر دانشمندانہ سرمایہ کاری کے باعث 25.32 ارب روپے کا نقصان۔
* کلیمز اور سرمائے کی بندش سے 17.57 ارب، ریونیو کی کم وصولی سے 16 ارب، ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کی ناکامی سے 14.53 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
بینک اکاؤنٹس کی غیر مؤثر مینجمنٹ سے 10.45 ارب، آڈٹ ریکارڈ کی عدم فراہمی سے 8.6 ارب کا نقصان۔
تعمیراتی منصوبوں کے ڈیزائن اور ویلیوایشن کے مسائل سے 7.7 ارب، جبکہ خردبرد اور کرپشن سے 6.3 ارب روپے کا نقصان ہوا۔