پشاور: خیبرپختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کی خطرناک لہرنے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ صوبائی محکمہ صحت کی تازہ رپورٹ کے مطابق، اب تک 1 لاکھ 64 ہزار سے زائد افراد کو طبی امداد فراہم کی جا چکی ہے، جب کہ مختلف اضلاع میں ہیضہ، ملیریا، ڈینگی، سانس، جلد اور ذہنی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔
ہیضے کے سب سے زیادہ کیسز دیر لوئر میں
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہیضہ سب سے زیادہ پھیلنے والی بیماری ہے، جس کے اب تک 2,506 کیسزرپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں 116 مریض خونی ہیضے میں مبتلا پائے گئے۔ جلدی امراض بھی شدت سے پھیل رہے ہیں۔ متاثرین کی بڑی تعداد کو خارش، دانے اور جلد پر الرجی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ تورغر: 172،شانگلہ: 128،دیر لوئر: 125،بونیر: 117، بٹگرام: 83، باجوڑ اور دیر لوئر: 5 دیگر کیسز
سانس کی بیماریاں اور نزلہ زکام بھی عام
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سانس کی بیماریاں، نزلہ اور زکام کی وبا بھی پھیلنے لگی ہے۔ 9 اضلاع سے 2,245 مریضوںکی رپورٹ ہوئی جن میں سے 1,413 افراد کا علاجکیا جا چکا ہے۔ دیر لوئر: 736 ،سوات: 703، شانگلہ: 359، بٹگرام: 217، صوابی: 103
جانوروں کے کاٹنے اور ذہنی صحت کے مسائل میں اضافہ
متاثرہ علاقوں میں سانپ اور کتوں کے کاٹنے کے 35 سے زائد واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ محکمہ صحت نے فوری طور پر ان علاقوں میں ویکسینز فراہم کر دی ہیں تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔
سیکرٹری صحت خیبرپختونخوا شاہد اللہ کے مطابق، تمام متاثرہ اضلاع میں موبائل اسپتال اور میڈیکل ٹیمیںمتحرک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی سیلاب کے شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، اسی لیے **ماہرِ نفسیات پر مشتمل ٹیمیں** بھی متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں تاکہ لوگوں کی نفسیاتی بحالی ممکن بنائی جا سکے۔
حکومتی اقدامات، مگر چیلنجز برقرار
اگرچہ صوبائی حکومت نے طبی امداد کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کیے ہیں، مگر متاثرہ علاقوں میں بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صفائی، صاف پانی، اور طبی سہولیات کی فراہمی کو مزید مثر نہ بنایا گیا تو صورتحال سنگین ہو سکتی ہے۔









