کراچی میں جب بھی معمولی بارش ہوتی ہے، شہر کے کئی علاقے پانی میں ڈوب جاتے ہیں، سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں اور نظامِ زندگی مفلوج ہو جاتا ہے۔ اس حوالے سے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال کسی قدرتی آفت کا نہیں، بلکہانسانی غفلت اور بوسیدہ نکاسی آب کے نظام کا نتیجہ ہے۔
بارش ہو یا طوفان، کراچی کا حال ایک جیسا
ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون کا ہر نیا سیزن اب تباہی کی خبر لے کر آتا ہے۔ صرف کراچی ہی نہیں، بلکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا جیسے علاقوں میں بھی معمولی بارشیں شہری زندگی کو مفلوج کر دیتی ہیں۔ خاص طور پر کراچی میںاربن فلڈنگ (شہری سیلاب) ایک معمول بن چکی ہے۔حالیہ بارشوں میں صرف ایک دن کی بارش نے شہر کو ایسے لپیٹا کہ سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں، گاڑیاں بہنے لگیں، اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ ماہرین کا کہنا ہےیہ سب قدرت کی طرف سے نہیں، ہماری اپنی لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔
کراچی میں 540 برساتی نالےموجود ہیں، جن کا مقصد بارش کے پانی کی نکاسی تھا۔ لیکن افسوس کہ ان نالوں پرتجاوزات قائم ہو چکی ہیں ،کئی نالوں کوسیوریج لائنز میں تبدیل کر دیا گیا نالوں کی صفائی اور دیکھ بھال پر مسلسل غفلت برتی گئی۔
محکموں کی رپورٹ کے مطابق
27 بڑے نالے ایسے ہیں جن پر 80 فیصد سے زیادہ قبضے ہو چکے ہیں، شہر کی70 فیصد آبادی کچی بستیوں میں رہتی ہے۔ ہر سال کچی آبادیوں میں 10 فیصد اور مجموعی آبادی میں5 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نکاسی کا نظام بڑھتی آبادی کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔
مسئلہ صرف بارش نہیں، شہر کی منصوبہ بندی ہے
ماہرین بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ ہمیںماحولیاتی تبدیلی، سیلاب کی پیشگوئی، اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے قومی سطح پر حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔شہر کا بار بار ڈوبنا کوئی حادثہ نہیں، بلکہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے وقت پر نہ چُنا گیا اور اب وہ بگڑ چکا ہے۔
کیا کرنا ہوگا؟کراچی کو ہر بارش میں بچانے کے لیے
نالوں سےتجاوزات کا خاتمہ، برساتی گزرگاہوں کوواپس اصل حالت میں بحال کرنا، نکاسی آب کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا، اور سب سے بڑھ کرسیاسی عزم اور انتظامی عملداری کی ضرورت ہے
کراچی کی ہر بارش اگر بحران میں بدل رہی ہے تو یہ صرف موسم کا نہیںشہر کی بدانتظامی کا عکس ہے۔
کراچی بارش میں ہر بار کیوں ڈوبتا ہے؟ ماہرین نے اصل وجہ بتا دی








