خیبرپختونخوا میں گاڑیوں کی رجسٹریشن سے متعلق اہم اور انقلابی قانون سازی کی گئی ہے۔ نئے قانون کے تحت، اگر آپ اپنی گاڑی بیچ بھی دیں، تورجسٹریشن نمبر آپ کے پاس ہی رہےگا، یہ نیا نظام شہریوں کواپنا ذاتی رجسٹریشن نمبر برقرار رکھنے کی سہولت فراہم کرے گا، جو کہ پاکستان میں ایک نیا اور منفرد قدم ہے۔
کے پی موٹر وہیکل آرڈیننس ترمیمی بل 2025 کی جھلکیاں
شہری اب اپنی پسند کاشخصی رجسٹریشن نمبر یعنی اپنے پسندیدہ نام کاحاصل کر سکیں گے۔
گاڑی کی فروخت کے بعد بھی نمبر پلیٹ پرانے مالک کے پاس ہی رہے گی۔
اگر کوئی مالک تین سال تک یہ نمبر استعمال نہ کرے تو وہ نمبر منسوخ کر دیا جائے گا۔
نمبر کی جعلسازی پر سخت جرمانے اورگاڑی ضبط کرنے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
ہر سال بائیو میٹرک تصدیق کے بعد ہی نمبر فعال رہے گا۔
متعلقہ افسران کو سڑکوں پر چیکنگ اور تصدیق کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
مالک کی وفات کی صورت میں گاڑی خودبخود ان کے لواحقین کے نام منتقل ہو جائے گی۔
سندھ میں بھی نئی قانون سازی نافذ
اُدھر،سندھ اسمبلی نے بھی موٹر وہیکلز ترمیمی بل2025منظور کر لیا ہے، جو اب آئین کے آرٹیکل 116کے تحت فوراً نافذ العمل ہے۔
بل کے مطابق:ہیوی گاڑیوں کے لائسنس کے لیے مزید سخت شرائط عائد کی گئی ہیں۔
ایل ٹی وی اور ایچ ٹی وی لائسنس کے لیے پری لائسنس ٹریننگ کورس لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ڈرائیورز کومناسب تربیت کے بعد ہی لائسنس جاری کیا جائے گا۔
گورنر سندھ نے اس اقدام کوشہریوں کی حفاظت اور سڑکوں کی بہتری کے لیے اہم قدم قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق قانون کی خلاف ورزی پرسخت کارروائ کی جائے گی۔
کیا فائدہ ہوگا؟
شہری اپنا رجسٹریشن نمبر ذاتی شناخت کے طور پر استعمال کر سکیں گے۔
جعلسازی اور غیر قانونی گاڑیوں کی روک تھام ممکن ہوگی۔
ڈرائیورز کی تربیت سےٹریفک حادثات میں کمی آئے گی۔
نظام میں شفافیت اور سیکیورٹی کا اضافہ ہوگا۔
یہ نئے قوانین واضح کرتے ہیں کہ ملک میںٹریفک نظام کو جدید بنانے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
!گاڑی رجسٹریشن کا نیا قانون متعارف








