کراچی: گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے سندھ بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ترمیمی بل 2025 پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے اسے نظرِثانی کے لیے واپس سندھ اسمبلی کو بھجوا دیا ہے۔
گورنر کے ترجمان کے مطابق، بل کی شق 15 کی ذیلی شق (1) میں چیئرمین بورڈ کی تعیناتی کے لیے مطلوبہ گریڈ میں تبدیلی کی تجویز دی گئی تھی۔ مجوزہ ترمیم کے تحت گریڈ 20 یا 21 کی جگہ اب گریڈ 19 یا 20 کے افسر کو چیئرمین تعینات کرنے کی اجازت دی جا رہی تھی، جسے گورنر نے مسترد کر دیا۔
کامران ٹیسوری کا مؤقف ہے کہ چیئرمین جیسے اہم انتظامی عہدے کے لیے سینئر اور زیادہ تجربہ کار افسران کی تقرری ضروری ہے تاکہ بورڈز کا انتظامی معیار اور کارکردگی متاثر نہ ہو۔ ان کے مطابق موجودہ قانون میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے اور پچھلی شق کو برقرار رکھا جائے۔
گورنر سندھ نے آئین کے آرٹیکل 116(2)(b) کے تحت یہ بل واپس بھیجتے ہوئے سندھ اسمبلی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس پر دوبارہ غور کرے۔
یاد رہے کہ اگر مجوزہ ترمیم منظور ہو جاتی تو چیئرمین بورڈ کے لیے گریڈ 19 کے افسران بھی اہل قرار پاتے، جو کہ موجودہ قانون کے مطابق ممکن نہیں ہے، جہاں صرف گریڈ 20 یا 21 کے افسران ہی یہ عہدہ سنبھال سکتے ہیں۔
گورنر کا کہنا ہے کہ تعلیم کے شعبے میں معیار کو برقرار رکھنے کے لیے اہم انتظامی عہدوں پر سینئر افسران کی تعیناتی ہی موزوں رہے گی۔









