وفاقی حکومت نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے مالی بحران سے نمٹنے کے لیے 27 ارب روپے کا بڑا مالی پیکیج تیار کر لیا ، جس کی منظوری کل اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں متوقع ہے۔
وزارت صنعت و پیداوار کے حکام کے مطابق، اس پیکیج میں ملازمین کی رضاکارانہ علیحدگی اسکیم کے لیے 15 سے 18 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ 13.8 ارب روپے واجبات کی مد میں مختلف وینڈرز کو ادا کیے جائیں گے۔ یوٹیلٹی اسٹورز پر اس وقت مجموعی طور پر 54 ارب روپے کا قرض واجب الادا ہے۔
ملازمین کی تعداد میں نمایاں کمی کا فیصلہ
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں اس صورتِ حال پر تفصیلی بحث ہوئی۔ ارکان نے یوٹیلٹی اسٹورز کی ممکنہ بندش اور ملازمین کو واجبات کی عدم ادائیگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ نجکاری کے عمل کے دوران ادارے کے 11 ہزار ملازمین میں سے صرف تقریباً 300 افراد کو برقرار رکھا جائے گا۔
کمیٹی نے ملازمین کے لیے تجویز کردہ مالی پیکیج کی مکمل تفصیلات فوری طور پر طلب کر لیں۔
پی آئی اے کی نجکاری میں تیزی، بولی رواں سال کے آخر میں متوقع
اجلاس میں پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق اہم پیش رفت بھی سامنے آئی۔ نجکاری کمیشن کے حکام کے مطابق، پی آئی اے کی مالی اور انتظامی جانچ پڑتال (Due Diligence) جاری ہے، اور 2025 کی آخری سہ ماہی میں اس کے لیے باقاعدہ بولی کا عمل شروع کرنے کا ارادہ ہے۔
اب تک پانچ کنسورشیم نے “اسٹیٹمنٹ آف کوالیفکیشن” جمع کرائی ہے، جن میں سے چار اہل قرار پائے ہیں ۔ ان کمپنیوں کو پی آئی اے کے مختلف یونٹس اور سائٹس کے دورے بھی کرائے جا رہے ہیں۔
ملک بھر میں بجلی کی طویل بندش پر بھی کمیٹی کا اظہارِ تشویش
اجلاس کے دوران ملک بھر میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ کمیٹی کے چیئرمین فاروق ستار نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں روزانہ 15 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، عوام شدید اذیت میں ہیں۔ کمیٹی نے اس معاملے پر وزیر توانائی کو آئندہ اجلاس میں طلب کر کے بریفنگ دینے کی ہدایت جاری کر دی ۔
یوٹیلٹی اسٹورز کے لیے 27 ارب روپے کا ریلیف پیکیج تیار








