بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

محمود شُرّاب: وہ مزاح نگار جو غزہ کے درد میں مسکراہٹیں بانٹتا بانٹتا شہید ہوگیا 

غزہ کی گلیوں میں جو نام کبھی قہقہوں کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج وہی نام خاموشی اور آنسوؤں کی علامت بن چکا ہے۔ 32 سالہ محمود شُرّاب — کامیڈی ویڈیوز سے شہرت پانے والا باصلاحیت فنکار — اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوگیا۔
محمود صرف ایک کامیڈین نہیں تھا، وہ غزہ کے نوجوانوں کی امید، مسکراہٹوں کا سفیر، اور ایک ایسا چہرہ تھا جو دکھ میں بھی زندگی کے رنگ تلاش کرتا تھا۔ روزمرہ زندگی کے دلچسپ اسکیچز، بے ساختہ ہنسی، اور سادہ مگر پُراثر انداز میں وہ لاکھوں لوگوں کے دلوں میں گھر کر چکا تھا۔
لیکن جنگ نے سب کچھ بدل دیا۔
جب اسرائیل نے غزہ پر حملے شروع کیے، تو محمود نے ہنسی کی جگہ خدمت کو چن لیا۔ اب وہ اسکرپٹ نہیں لکھتا تھا، وہ ضرورت مندوں کے لیے خیمے لگاتا، پانی کی بوتلیں بانٹتا، بچوں کے لیے دودھ لے کر تباہ حال کیمپوں تک پہنچتا۔
اس کا ایک ہی جملہ تھا:  لوگوں کو میری ضرورت ہے، میں رُک نہیں سکتا۔
اپنے فن، اپنی شہرت، اپنے آرام کو ایک طرف رکھ کر وہ انسانیت کے لیے میدان میں تھا۔
اس کی فیس بک پروفائل پر لکھا تھا میں تخلیق کا عاشق ہوں، چاہے وہ جیسی بھی ہو۔ اور اس نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں وہ تخلیق انسان دوستی کی صورت میں دکھا دی۔
محمود اپنے پیچھے بیوہ لما شُبیر اور 4 سالہ بیٹی دُلال کو چھوڑ گیا ہے۔ جنگ کے آغاز پر اس نے بیوی اور بیٹی کو مصر منتقل کر دیا تھا تاکہ وہ محفوظ رہ سکیں۔
لما نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہااس نے ہمیں بچا لیا، لیکن خود ہمیشہ کے لیے ہم سے بچھڑ گیا۔ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ ڈیڑھ سال کا فاصلہ ہماری آخری جدائی بن جائے گا۔

21 جون کو اسرائیلی حملے میں جب جنوبی غزہ کے المواسی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا، تو محمود بھی ان درجنوں عام شہریوں میں شامل تھا جنہیں صرف زندہ رہنے کی کوشش کی سزا ملی۔
محمود شُرّاب اب نہیں رہا، مگر وہ ان بے شمار چہروں میں شامل ہو چکا ہے جنہوں نے غزہ کے ملبوں میں انسانیت کی روشنی کو بجھنے نہیں دیا۔
اس کی مسکراہٹ، اس کا فن، اور اس کی خدمت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی — ہنسی کے بیچ چھپے ایک ہیرو کے طور پر۔