بلوچستان کے سرحدی علاقے سمبازا میں سکیورٹی فورسز نے ایک بڑی اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملک کو ایک ممکنہ تباہ کن دہشت گردی سے بچا لیا۔ کارروائی کے دوران فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 47 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی 7 سے 9 اگست کے دوران عمل میں آئی، جب خفیہ معلومات کی بنیاد پر معلوم ہوا کہ ایک بڑی تعداد میں دہشت گرد پاکستان-افغانستان بارڈر کراس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فوجی دستوں نے فوری ردعمل دیا اور کارروائی کے نتیجے میں دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا۔
افغان سرزمین سے تعلق اور لاشوں کا حال
ذرائع نے بتایا کہ مارے جانے والے بیشتر دہشت گرد افغان شہریت رکھتے تھے، اور ان میں سے کئی کی لاشیں سرحد پار افغان علاقے میں جا گریں۔ حیرت انگیز طور پر 15 روز گزرنے کے باوجود نہ تو کوئی انہیں لینے آیا اور نہ ہی ان کی شناخت یا تدفین کی کوئی کوشش کی گئی۔
مزید انکشاف ہوا کہ 25 اگست کو ان لاشوں کو گدھوں پر لاد کر لے جایا گیا اور کئی لاشیں علاقے میں جانوروں کی خوراک بن گئیں — ایک عبرت ناک انجام جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان دہشت گردوں کو نہ اپنی قیادت کی طرف سے کوئی اہمیت ملی، نہ ہی اپنی سرزمین سے۔
ریاست کا پیغام: امن کے دشمنوں کا کوئی مستقبل نہیں
سکیورٹی اداروں نے اس کارروائی کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے، کیونکہ اس سے ایک ممکنہ حملہ یا تخریب کاری کا منصوبہ قبل از وقت ناکام بنایا گیا۔ فورسز کا کہنا ہے کہ ملک دشمن عناصر، خاص طور پر وہ جو بیرونِ ملک سے آ کر پاکستان میں خونریزی چاہتے ہیں، انہیں اسی طرح کے انجام کا سامنا کرنا ہوگا۔









