سرینگر (نیوز ڈیسک) مقبوضہ جموں و کشمیر میں موسلا دھار بارشوں نے تباہی پھیلا دی۔ فلیش فلڈز اور لینڈ سلائیڈنگ کے مختلف واقعات میں کم از کم 13 افراد جاں بحق ہوئے۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 9 یاتری شامل ہیں جو ویشنو دیوی یاترا کے راستے پر آدھکواری کے قریب لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آئے۔ یہ واقعہ اندرپرسٹھ بھوجنالیہ کے پاس پیش آیا جہاں شدید بارش کے باعث پہاڑی تودہ گر گیا۔
ریکارڈ بارش نے صورتحال کو بگاڑ دیا
انڈیا میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ (IMD) کے مطابق اودھمپور ایئر فورس اسٹیشن پر منگل 26 اگست کو محض 12 گھنٹوں کے دوران 540 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ یہ دہلی کے پورے مون سون (جون تا ستمبر) کے اوسط 640.4 ملی میٹر بارش کے 84.3 فیصد کے برابر ہے۔ اس غیر معمولی بارش نے خطے میں بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈز کو جنم دیا۔
مواصلاتی نظام اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان
بھاری بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے بجلی، سڑکوں اور ٹیلی کمیونیکیشن کے نظام کو مفلوج کر دیا۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہا کہ وہ “تقریباً ختم شدہ مواصلاتی نظام” سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق نہ وائی فائی دستیاب ہے اور نہ ہی مناسب براؤزنگ ممکن ہے جبکہ ایپس انتہائی سست روی سے چل رہی ہیں۔
امدادی کارروائیاں اور خدشات
ریسکیو ٹیمیں مختلف علاقوں میں پھنسے یاتریوں اور مقامی آبادی کو نکالنے میں مصروف ہیں۔ لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے پیش نظر ویشنو دیوی یاترا کے کچھ حصے کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بعض علاقوں تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
مقامی انتظامیہ نے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے لوگوں کو نشیبی اور خطرناک علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔ بارش کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث خطے میں مزید لینڈ سلائیڈنگ اور تباہی کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا رہا۔









