بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

معاشی ترقی کا امکان،کم ٹیکس وصولی، قرضے، قدرتی آفات بڑے خطرات ،وزارت خزانہ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان کی معیشت درمیانی مدت میں مستحکم نمو کا امکان رکھتی ہے، تاہم کئی میکرو اکنامک خطرات مالی استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔آئی ایم ایف پروگرام کے تحت وزارت خزانہ کی جانب سے تیار کردہ مالی خطرات کی رپورٹ کے مطابق ان خطرات میں متوقع شرح نمو سے کم جی ڈی پی، قرض کا بڑھتا ہوا تناسب، کم ٹیکس وصولی، گردشی قرضے، قدرتی آفات اور ماحولیاتی تبدیلی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حقیقی جی ڈی پی نمو 5.1 فیصد کے ہدف سے 1.5 فیصد کم ہو کر 3.5 فیصدرہ سکتی ہے۔ اس سے ٹیکس آمدنی میں کمی اور مالی خسارے میں اضافہ ہو گا، جس سے مالی سال 2026 میں مالی خسارہ 42.1 ارب روپے اور مالی سال 2026 سے 2028 کے دوران مجموعی طور پر 312.4 ارب روپے بڑھ سکتا ہے۔ اگر تمام سرکاری اخراجات کی کیٹیگریز جی ڈی پی سے غیر منسلک رہیں تو مالی سال 2026 میں مالی خسارہ 92.8 ارب روپے اور مالی سال 2026 سے 2028 کے دوران 713.4 ارب روپے تک بڑھ سکتا ہے۔ بجلی اور گیس کے شعبے کا مجموعی گردشی قرضہ 47 کھرب روپے جو کل حکومتی قرض کا 6 فیصد ہے۔ خطرات کم کرنےکیلئے حکومت نے ٹیکسیشن، کفایت شعاری اور مالی ذخائر میں اضافے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔غیر مؤثر اور نقصان میں چلنے والے سرکاری ادارے (SOEs) مالی بوجھ میں اضافہ کر رہے ہیں۔ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے کے بجائے انتظامی اقدامات اور ٹیکس کی شرحوں میں اضافے پر انحصار کرنا خطرات کا باعث ہے۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک کے منافع میں کمی اور پٹرولیم لیوی کی کم وصولی سے بھی مالی خسارے میں نمایاں اضافہ ہو گا۔ دسمبر 2024 تک پاکستان کا کل قرض 67,034 ارب روپے ہے۔