پاکستان میں دریاؤں کی بپھرتی ہوئی لہروں اور پانی کی تیزی سے بلند ہوتی سطح نے ماہرین کو خبردار کر دیا ہے: کیا ہم ایک اور تباہ کن “سپر فلڈ” کا سامنا کرنے والے ہیں؟
ملک کے مختلف حصوں میں پانی کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حالات پر قابو نہ پایا گیا تو 2010 اور 2022 کی طرح کی سنگین قدرتی آفت دوبارہ جنم لے سکتی ہے۔
سپر فلڈ کیا ہوتا ہے؟
ماہرین کے مطابق “سپر فلڈ” ایک ایسا غیر معمولی اور شدید سیلاب ہوتا ہے جو اپنی شدت، رفتار اور پھیلاؤ کے لحاظ سے عام سیلابوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ ایسے سیلاب میں دریا اپنی گنجائش سے کئی گنا زیادہ پانی خارج کرتے ہیں، جس سے لاکھوں لوگ متاثر ہوتے ہیں، زرعی زمینیں تباہ ہو جاتی ہیں اور پورا معاشی نظام لرز کر رہ جاتا ہے۔
وجوہات میں گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، غیر متوقع اور شدید مون سون بارشیں، اور ناقص نکاسی آب شامل ہیں۔ ساتھ ہی دریاؤں میں پانی کی غیر معمولی روانی اس صورتحال کو مزید بگاڑ دیتی ہے۔
کیا ہم تیار ہیں؟
حکومت کی جانب سے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA)، ابتدائی وارننگ سسٹمز اور دیگر اقدامات تو کیے گئے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے آبی ذخائر محدود ہیں، منصوبہ بندی کمزور ہے
فنڈز ناکافی ہیں اور عوام میں آگاہی کا شدید فقدان ہے یہی کمزوریاں ماضی میں بھی ہم پر بھاری پڑی ہیں۔
بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنا – ایک نیا خطرہ؟
ماہرین اور تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ بھارت کی جانب سے دریاؤں میں اچانک پانی چھوڑنے سے صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، “جب دریا بپھرنے لگے تھے، تب اس پر کوئی سنجیدہ تجزیہ نہیں کیا گیا۔ اب ہم چناب، راوی، ستلج، جہلم اور سندھ کے معاون دریاؤں میں خطرناک حد تک پانی کی سطح بلند ہوتی دیکھ رہے ہیں۔ شمالی علاقوں میں ممکنہ سیلاب کی پیشگوئی کرنی چاہیے۔”
2010 – پاکستان کی تاریخ کا سب سے تباہ کن سیلاب
2 ہزار افراد جاں بحق
ملک کا ایک تہائی حصہ زیرِ آب
2 کروڑ افراد متاثر
انفراسٹرکچر، زرعی زمینیں، مکانات تباہ
معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان
یہ سیلاب دراصل ایک ’دریائی سیلاب‘ تھا، جس میں دریاؤں کی سطح معمول سے کہیں زیادہ بلند ہو گئی تھی۔
2022 – بارشوں سے جنم لینے والا قہر
3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر
1,739 ہلاکتیں
30 ارب ڈالر سے زائد کا مجموعی نقصان
سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب شدید متاثر
116 اضلاع متاثر
یہ سیلاب ’فلیش فلڈ‘ کی صورت میں آیا، جس کا سبب شدید اور مسلسل بارشیں تھیں۔
اس آفت کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور ہالی وڈ اداکارہ انجلینا جولی نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ لیکن عالمی توجہ کے باوجود، ہم دوبارہ اسی خطرے کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلی اور ہم – ایک غفلت بھرا رویہ؟
سینئر سیاستدان مشاہد حسین کا کہنا ہے کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے سب سے زیادہ حساس ممالک میں شامل ہے، مگر سیلاب جیسے خطرات اب بھی حکومتی ترجیحات میں شامل نظر نہیں آتے۔
وفاقی اور صوبائی سطح پر درجنوں ادارے موجود ہیں، لیکن ان کے درمیان ہم آہنگی، پیشگی تیاری اور سنجیدہ تحقیق کا فقدان ہے۔”
کیا پاکستان ایک اور ’سپر فلڈ‘ کے دہانے پر ہے؟








