بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان نے بھارتی طیارےمارگرانے کے ساتھ سفارتی میدان میں بھی مارلیا، معروف عالمی تجزیہ کار

 

بین الاقوامی امور کے ممتاز ماہر ایلدار میمدوف نے پاک-امریکہ تعلقات پر اپنے حالیہ آرٹیکل میں لکھا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف بھارت کے جنگی طیارے مار گرائے بلکہ سفارتی محاذ پر بھی بڑی کامیابی حاصل کی، اور واشنگٹن میں اپنی پوزیشن مضبوط بناتے ہوئے صدر ٹرمپ کی قربت حاصل کر لی۔

ایلدار میمدوف کے مطابق، بھارت کی جانب سے کشمیر حملے کے بعد کیے گئے جارحانہ اقدامات کے جواب میں پاکستان نے انتہائی نپے تلے انداز میں ردعمل دیا، بھارتی طیارے مار گرائے، مگر معاملہ بڑھانے کے بجائے امن کا راستہ اپنایا۔ اس چار روزہ کشیدگی کے دوران ٹرمپ کی ثالثی نے اہم کردار ادا کیا، جسے پاکستان نے نہ صرف سراہا بلکہ ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد بھی کیا۔ اس کے برعکس بھارت نے ٹرمپ کے کردار کی تردید کی اور سفارتی طور پر پسپا نظر آیا۔

ایلدار میمدوف لکھتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس میں خطاب کے دوران پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو سراہا، اور پاکستان کو واشنگٹن میں نئے حامی ملنے لگے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس مدعو کیا، جب کہ بھارتی وزیراعظم مودی کی واشنگٹن آمد ممکن نہ ہو سکی۔

ماہر عالمی امور کے مطابق، جنرل عاصم منیر کی متوازن قیادت اور بردباری نے ٹرمپ کو متاثر کیا، اور دونوں رہنماؤں کے تعلقات کو “برو مینس” (قریبی ذاتی دوستی) کا رنگ مل گیا۔ اسی تناظر میں امریکا نے پاکستان کے ساتھ بڑے معاشی معاہدے بھی کیے، جب کہ بھارت پر اضافی تجارتی ٹیرف لگا دیے گئے، جس سے بھارت امریکا سے دور ہو کر چین اور روس کی طرف مائل ہونے لگا۔

ایلدار میمدوف نے اپنے تجزیے کے آخر میں سوال اٹھایا کہ اگرچہ حالات پاکستان کے حق میں نظر آتے ہیں، مگر یہ واضح نہیں کہ امریکہ کی یہ نئی پالیسی مستقل ہے یا وقتی مفاد کا نتیجہ۔