جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما مفتی کفایت اللہ، جو دو ہفتے قبل مالاکنڈ میں پیش آنے والے افسوسناک فائرنگ کے واقعے میں شدید زخمی ہو گئے تھے، اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گئے۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ مفتی کفایت اللہ کے اپنے گھر میں پیش آیا تھا، جہاں ان کے بیٹے معتصم باللہ نے مبینہ طور پر گھریلو تنازع کے دوران اہل خانہ پر فائرنگ کر دی تھی۔ اس اندوہناک واقعے میں مفتی کفایت اللہ زخمی ہوئے تھے، جب کہ ان کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے۔
مفتی کفایت اللہ کو فوری طور پر تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ دو ہفتے سے زیر علاج تھے۔ تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے اور آج انتقال کر گئے۔
مرحوم دینی اور سیاسی حلقوں میں ایک معتبر اور فعال شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے، ان کے انتقال پر جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں سمیت ملک بھر میں افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
جے یو آئی رہنما مفتی کفایت اللہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے








