جولائی کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں 1 روپے 69 پیسے فی یونٹ کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ، جس سے ملک بھر کے صارفین کو تقریباً 23 ارب روپے کا ریلیف مل سکتا ہے۔
اس سلسلے میں نیپرا ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں جمعرات کو عوامی سماعت ہوئی، جس کی صدارت نیپرا کے ممبر سندھ، رفیق شیخ نے کی۔ سماعت کے دوران سی پی پی اے (سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی) نے جولائی کے لیے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں نرخ کم کرنے کی درخواست جمع کروائی اور بتایا کہ اس کمی کا فائدہ ستمبر کے بجلی بلوں میں صارفین کو منتقل ہوگا۔
حادثات پر سخت برہمی
سماعت کے دوران نیپرا کے ممبر رفیق شیخ نے جولائی میں بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے سے ہونے والی اموات پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ صرف ایک ماہ میں کرنٹ لگنے کے مختلف حادثات میں 11 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں سے 6 اموات صرف اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے دائرہ کار میں ہوئیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ “کہاں ہیں حفاظتی اقدامات؟ آئیسکو کے سی ای او کہاں ہیں؟” اور خبردار کیا کہ نیپرا ان غفلت برتنے والی کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد کر سکتی ہے، تاہم اکثر اوقات عدالتوں سے ان پر حکمِ امتناع (سٹے آرڈر) لے لیا جاتا ہے۔
فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست اور اطلاق
نیپرا کے مطابق سی پی پی اے نے جولائی کی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (FCA) کی مد میں فی یونٹ 1.69 روپے کمی کی تجویز دی ہے، جس کا اطلاق صرف ایک ماہ کے لیے ہوگا۔ نیپرا نے کہا کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی ہدایات کے مطابق کے الیکٹرک صارفین پر بھی یہی ایف سی اے لاگو ہوگا تاکہ یکساں ٹیرف پالیسی برقرار رہے۔
تاہم یہ ریلیف صرف مخصوص صارفین کو ملے گا۔ لائف لائن صارفین، پروٹیکٹڈ کیٹیگری کے صارفین، پری پیڈ میٹرز والے صارفین اور الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اس کمی کے اطلاق سے مستثنیٰ ہوں گے۔
نیپرا نے تمام اسٹیک ہولڈرز کی آراء سننے کے بعد بتایا کہ ادارہ موصولہ ڈیٹا کا مزید تجزیہ کرے گا اور حتمی فیصلہ جلد جاری کیا جائے گا۔
بجلی 1 روپے 69 پیسے فی یونٹ سستی ہونے کا امکان








