بھارت کی ریاست راجستھان کے ضلع چتوڑ گڑھ میں ایک خاندان کے لیے گوگل میپ پر اندھا اعتماد جان لیوا ثابت ہوا، جب مذہبی سفر سے واپسی پر ان کی وین ایک بند پل سے دریا میں جا گری۔ حادثے میں دو خواتین اور دو بچے جاں بحق ہو گئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، یہ دلخراش واقعہ اُس وقت پیش آیا جب وین کا ڈرائیور گوگل میپ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے گاڑی کو “سومی اپریڈا” نامی پل کی طرف لے گیا، جو کئی مہینوں سے بند تھا اور آمد و رفت کے لیے ناقابلِ استعمال تھا۔
پولیس حکام کے مطابق، جیسے ہی گاڑی پل پر پہنچی، وہ پھنس گئی اور پھر تیز دریا کے بہاؤ میں بہہ گئی۔ وین میں کل 9 افراد سوار تھے۔ مقامی افراد اور ریسکیو ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 5 افراد کو بچا لیا، تاہم 4 قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں، جن میں دو خواتین اور دو بچے شامل ہیں۔ ایک بچے کی تلاش تاحال جاری ہے۔
حادثے کے بعد مقامی سطح پر گوگل میپ اور دیگر نیویگیشن ایپس پر اندھے اعتماد پر بحث چھڑ گئی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین اور ٹیک ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی یقیناً معاون ثابت ہوتی ہے، لیکن اس کا اندھا استعمال خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ ایسی ایپس کا استعمال کرتے وقت مقامی معلومات، سائن بورڈز، اور زمینی حالات کا بھی خیال رکھنا بے حد ضروری ہے تاکہ ایسے دلخراش واقعات سے بچا جا سکے۔
گوگل میپ پر اندھا اعتماد جان لیوا ثابت، وین دریا میں جا گری، 4 افراد ہلاک








