پریس نیٹ ورک آف پاکستان کے سربراہ صباح الدین قاضی کے مطابق یہ ایوارڈ ہمارا طویل المدتی عزم ہے کہ نوجوان آوازوں کو صحافت میں پروان چڑھایا جائے اور نئی نسل کو ملک کے معتبر ترین اخبارات اور میڈیا اداروں کے ساتھ منسلک ہونے کی ترغیب دی جائے، انہوں نے آگاہ کیا کہ پی این پی کے ساتھ انٹرن شپ کے دوران یونیورسٹی اسٹوڈنٹس کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ قومی سطح کے بڑے اخبارات میں مدیران کے نام اپنے خطوط شائع کرائیں تاکہ اہم سماجی مسائل، عوامی خدشات اور نوجوانوں کے نقطۂ نظر اجاگر کیا جاسکے اور انٹرنشپ کرنے والوں کو قومی مکالمے پر اثرانداز ہونے کا موقع ملے۔
پریس نیٹ ورک اف پاکستان پی این پی لیٹر آف ایکسیلنس ایوارڈز کا اعلان کرکے ان انٹرنز کو باضابطہ طور پر سراہنے جا رہا ہے جنہوں نے اپنے شائع شدہ خطوط کے ذریعے غیرمعمولی صلاحیت، وضاحت اور اثر پذیری کا مظاہرہ کیا۔صباح الدین قاضی کا مزید کہنا تھا کہ ملک بھر سے پی این پی انٹرن شپ پروگرام کامیابی سے مکمل کرنے والے تمام انٹرن ایوارڈز میں حصہ لینے کے اہل ہیں، انہوں نے اب تک مکمل ہونے والے دس بیچز کے تمام انٹرنز کو دعوت دی کہ وہ اپنے شائع شدہ لیٹر ٹو دی ایڈیٹر ایوارڈ کے لیے جمع کروائیں۔ یہ قابلِ تقلید اقدام پی این پی کے وژن کو اجاگر کرتا ہے کہ اپنی افرادی قوت کو نکھارنے اور انہیں اپنے پروفیشنل سفر کو اجاگر کرنے کے لیے ایک معتبر پلیٹ فارم مہیا کیا جائے۔
پی این پی لیٹر آف ایکسیلنس ایوارڈز مختلف کیٹیگریز میں دیے جائیں گے جبکہ ایک آزاد جیوری جس میں سینئر صحافی، ایڈیٹرز اور میڈیا پروفیشنلز شامل ہوں گے، تمام اندراجات کا جائزہ لے گی تاکہ شفافیت معیار یقینی بنایا جا سکے۔
مزید تفصیلات کے لیے وزٹ کریں:









