نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت کا عدلیہ پر کوئی اختیار نہیں ہے، اور ان کا عمران خان کے ٹرائل سے متعلق حالیہ بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے تنقید کرنے والوں کو مشورہ دیا کہ اگر انگریزی نہیں آتی تو سیکھ لیں۔
وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے حالیہ بین الاقوامی دوروں، اہم سفارتی ملاقاتوں اور ملکی و عالمی ایشوز پر حکومت کے مؤقف پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
سلامتی کونسل کی صدارت: ایک بڑی سفارتی کامیابی
اسحاق ڈار نے بتایا کہ جولائی میں پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالی، جو پاکستان کے لیے ایک اہم موقع تھا۔ اس دوران تین بڑی میٹنگز ہوئیں اور “کثیرالجہتی تعاون اور تنازعات کے پرامن حل” کے موضوع پر پیش کی گئی پاکستان کی قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قرارداد کا حوالہ تھائی لینڈ-کمبوڈیا امن اجلاس میں بھی دیا گیا، جو ہمارے مؤقف کی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی کا ثبوت ہے۔
مسئلہ فلسطین پر مؤثر آواز
اسحاق ڈار نے بتایا کہ سلامتی کونسل کے دوران مسئلہ فلسطین پر پاکستان نے واضح اور بھرپور مؤقف اپنایا۔ غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند کی گئی اور او آئی سی کے رکن ممالک سے بھی مربوط سفارتی رابطے کیے گئے۔ 25 اگست کو ہونے والے او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان نے “گریٹر اسرائیل” کے منصوبے کو کھلے الفاظ میں مسترد کیا اور فلسطینی سرحدوں کو 1967 کی حدود میں بحال کرنے کی حمایت کی۔
امریکا، چین اور دیگر ممالک سے اہم رابطے
انہوں نے بتایا کہ واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کامیاب رہی، جہاں پاکستان اور بھارت کے تعلقات، ایران-اسرائیل کشیدگی، اور خطے کی مجموعی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ قراقرم ہائی وے، ایم ایل ون اور سی پیک فیز 2 سمیت کئی منصوبوں پر بات ہوئی۔ چین نے ٹرانس افغان ریلوے منصوبے کی فنانسنگ پر اصولی اتفاق کیا ہے، جس کا مقصد سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینا ہے۔
کابل، ڈھاکہ اور برطانیہ کے دورے
کابل میں ہونے والے چین-پاکستان-افغانستان سہ فریقی اجلاس کو ڈار نے “انتہائی اہم” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کے حوالے سے پاکستان اور چین دونوں کو تحفظات ہیں، اور افغان حکام نے بتایا ہے کہ ٹی ٹی پی کے ہمدردوں کو حکومت سے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ 700 چیک پوسٹس بھی ختم کی جا چکی ہیں۔
ڈھاکہ کے دورے سے متعلق انہوں نے کہا کہ بھارتی فضائی حدود بند ہونے کے باعث سات گھنٹے طویل سفر کرنا پڑا، لیکن دورہ کامیاب رہا۔ بی این پی، جماعت اسلامی اور دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں، جنہوں نے پاکستان سے بہتر تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس سے ملاقات کو “خوشگوار” قرار دیا اور بتایا کہ سارک کو فعال بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔
برطانیہ کے دورے کے دوران پاکستانی ہائی کمیشن میں پاسپورٹ ون ونڈو سروس کا آغاز کیا گیا جبکہ پی آئی اے کی مانچسٹر کے لیے براہ راست پروازیں ستمبر سے بحال کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔
اندرونی معاملات پر وضاحت
اسحاق ڈار نے ایک بار پھر واضح کیا کہ حکومت عدلیہ پر اثر انداز نہیں ہو سکتی، اور عمران خان کے کیس سے متعلق ان کے انٹرویو کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ “اگر کسی کو انگریزی نہیں آتی تو سیکھ لے،” انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا۔
علاقائی تعلقات اور خارجہ پالیسی
انہوں نے بتایا کہ کاراباخ تنازع کے حل کے بعد پاکستان آرمینیا سے تعلقات استوار کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ فضائی حملے کے بعد ہونے والے احتجاج (ڈی مارش) کو “معمول کی سفارتی کارروائی” قرار دیا۔
پانی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، اور “پانی کا ایک قطرہ بھی ضائع یا منتقل ہونے نہیں دیں گے۔
حکومت کا عدلیہ پر کوئی اختیار نہیں، میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا،اسحاق ڈار








