واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے قبل فلسطینی اتھارٹی (پی اے) اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے نمائندوں کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے پی ایل او اور پی اے کے ارکان کے ویزے منسوخ یا مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مستقل مشن میں شامل افراد کو استثنا حاصل ہوگا لیکن صدر محمود عباس آئندہ ماہ جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔
امریکی بیان کے مطابق پی ایل او اور پی اے نے وعدوں پر عمل نہیں کیا اور امن عمل کو نقصان پہنچایا، اس لیے انہیں جواب دہ ٹھہرایا جا رہا ہے۔ واشنگٹن نے فلسطینی قیادت پر الزام لگایا کہ وہ اسرائیل کے خلاف عالمی عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی کے ذریعے سیاسی دباؤ ڈال رہی ہے۔
اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور نے کہا کہ وہ اس فیصلے کی تفصیلات معلوم کر رہے ہیں اور مناسب ردعمل دیں گے۔ صدر عباس کے دفتر نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون سار نے امریکی اقدام کو “جرات مندانہ فیصلہ” قرار دیتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔
یاد رہے امریکا نے 1988 میں پی ایل او کے سربراہ یاسر عرفات کو بھی اقوام متحدہ اجلاس کے لیے ویزا دینے سے انکار کیا تھا، جبکہ 2013 میں سوڈانی صدر عمر البشیر کو بھی ویزا مسترد کیا گیا تھا۔









