بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پنجاب کے سیلاب زدگان وبائی امراض کا شکار

پنجاب میں سیلاب کے متاثرین کو ایک اور بڑے چیلنج کا سامنا ہے، کیونکہ سیلابی تباہیوں کے بعد وبائی امراض تیزی سے پھیلنے لگے ہیں۔ بھارت کی جانب سے آبی جارحیت اور ڈیموں سے پانی چھوڑنے کے نتیجے میں دریائے چناب، ستلج اور راوی میں طغیانی آئی، جس کے باعث صوبہ پنجاب کے متعدد اضلاع اور شہروں میں سیلابی صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی ہے۔ سیالکوٹ، نارووال اور دیگر اضلاع میں حالات بگڑ چکے ہیں، اور لاہور میں دریائے راوی کا پانی بے قابو ہو کر رہائشی علاقوں میں داخل ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے مقامی لوگ موٹر وے پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
سیلاب کی تباہ کاریوں اور نقل مکانی کی مشکلات کے علاوہ، اب وبائی امراض نے متاثرین کی پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ڈینگی، ڈائریا، ملیریا اور جلدی امراض کی شکایات بڑھ گئی ہیں، اور صرف لاہور میں 24 گھنٹے کے دوران 9 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ دیگر متاثرہ شہروں اور دیہاتوں میں صورتحال مزید تشویشناک ہے۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے اس صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ صحت و آبادی کی ٹیموں کو ہر وقت الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب بھر میں متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے ہیں اور ضروری دوائیں وافر مقدار میں فراہم کی جا رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز خود ریلیف آپریشن کی نگرانی کر رہی ہیں تاکہ متاثرین کی مدد کی جا سکے۔
فلڈ فورکاسٹنگ نے بھی مزید سیلابی خطرات کی پیش گوئی کی ہے، اور بتایا ہے کہ بھارت سے ایک اور سیلابی ریلا آج شام دریائے چناب ہیڈ تریموں بیراج پہنچے گا، جس سے یہاں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔ اسی طرح، 2 ستمبر کو ہیڈ پنجند کے مقام پر بھی سیلابی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔