بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

دفتر میں مسلسل سی سی ٹی وی نگرانی ہراسانی ہے، وفاقی محتسب

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی فوزیہ وقار نے قرار دیا ہے کہ دفتر میں ملازمین کی مسلسل سی سی ٹی وی نگرانی ہراسانی کے زمرے میں آتی ہے۔

نجی اخبار کے مطابق یہ فیصلہ راولپنڈی کے ایک نجی تعلیمی ادارے کے کیس میں سامنے آیا، جہاں خاتون افسر کی شکایت پر ادارے کے سربراہ کو 50 ہزار روپے جرمانہ اور سرزنش کی سزا دی گئی۔ شکایت کنندہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ چیف ایگزیکٹو افسر انہیں غیر ضروری نگرانی اور خوف و ہراس کا نشانہ بناتے ہیں۔

تحقیقات کے دوران شواہد سے ثابت ہوا کہ ملزم نے سی سی ٹی وی کیمروں کا غلط استعمال کیا اور متاثرہ ملازمہ کو سی سی ٹی وی اسکرین شاٹس بھیج کر خوف زدہ ماحول پیدا کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اس رویے نے متاثرہ خاتون کی نجی زندگی اور وقار کو مجروح کیا، اس لیے یہ قانون کے تحت ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے۔ متاثرہ خاتون کو 50 ہزار روپے بطور معاوضہ دینے کا بھی حکم دیا گیا۔

محتسب نے ادارے کو اصلاحی اقدامات کی ہدایت بھی کی جن میں انکوائری کمیٹی کی تشکیل اور ضابطہ اخلاق کو اردو اور انگریزی میں نمایاں طور پر آویزاں کرنا شامل ہے۔

فیصلے میں واضح کیا گیا کہ ہراسانی صرف ناپسندیدہ جنسی پیش قدمی تک محدود نہیں بلکہ ایسا کوئی بھی رویہ جو اعتماد اور وقار کو متاثر کرے یا خوف و ہراس پیدا کرے، ہراسانی ہے۔

وفاقی محتسب کے دفتر کے بیان میں کہا گیا کہ یہ کیس یاد دہانی ہے کہ نگرانی کو ملازمین کو کنٹرول کرنے یا خوفزدہ کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، نجی زندگی اور وقار بنیادی دفتری حقوق ہیں۔