روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک حیران کن دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ماہ الاسکا میں ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی ملاقات میں یوکرین جنگ کے خاتمے پر “افہام و تفہیم” ہو چکی ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق پیوٹن نے اشارہ دیا کہ بات چیت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، تاہم انہوں نے اس سوال پر خاموشی اختیار کی کہ آیا وہ صدر ٹرمپ کی موجودگی میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ براہِ راست امن مذاکرات کے لیے تیار ہوں گے یا نہیں۔
ادھر یورپی رہنما، خاص طور پر فرانسیسی صدر، پیوٹن سے یہ وضاحت مانگ چکے ہیں کہ وہ ان “طے پانے والے معاملات” کی نوعیت کیا ہے — اور اس کا جواب دینے کے لیے آج (پیر) تک کی مہلت دی گئی ہے۔
چین میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیوٹن نے ایک بار پھر اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ روس کے حملے کی وجہ سے نہیں، بلکہ یوکرین میں ایک مغرب نواز بغاوت کے نتیجے میں شروع ہوئی، جسے باہر سے بڑھاوا دیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ روس کی جانب سے یوکرین پر چڑھائی اس وقت ہوئی جب نیٹو کی توسیع مسلسل روسی سیکیورٹی کو چیلنج کر رہی تھی۔
پیوٹن نے چین اور بھارت کے کردار کو بھی سراہا اور ان کا شکریہ ادا کیا، جو کہ اس بحران میں ثالثی اور تعاون کی کوششیں کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ دونوں ممالک روسی خام تیل کے بڑے خریدار ہیں — اور مغربی دنیا کا ماننا ہے کہ ان کی خریداری نے روسی معیشت کو پابندیوں کے باوجود سنبھالا دیا ہوا ہے۔
اجلاس کے بعد امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ پیوٹن نے یوکرین کو کچھ سیکیورٹی ضمانتیں دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ تاہم ماسکو نے اس حوالے سے اب تک کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
دوسری طرف، یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیوٹن کے کسی بھی ممکنہ بفر زون یا امن منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا۔ ان کا کہنا تھا روس جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے، بلکہ وہ محض وقت حاصل کر رہا ہے تاکہ جنگ کو مزید طول دیا جا سکے۔









