فلسطینی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل مسجد اقصیٰ کے نیچے خفیہ اور غیرقانونی کھدائی میں مصروف ہے، جس کا مقصد نہ صرف اسلامی آثارِ قدیمہ کو مٹانا ہے بلکہ مسجد کی تاریخی اور مذہبی شناخت کو بھی نشانہ بنانا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لیک ہونے والی ویڈیوز نے اسرائیلی عزائم کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ صحنِ اقصیٰ کے نیچے کھدائی جاری ہے، جس کے دوران اموی دور کی اہم اسلامی نشانیاں جان بوجھ کر تباہ کی جا رہی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ آثار مسجد اقصیٰ کی اسلامی تاریخ اور مسلمانوں کے اس پر حقِ ملکیت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔ اسرائیل ان نشانیوں کو مٹا کر مسجد کی جگہ مستقبل میں یہودی عبادت گاہ قائم کرنا چاہتا ہے — جو نہ صرف ایک خطرناک منصوبہ ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔
فلسطینی اتھارٹی نے ان اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ، یونیسکو اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ اس مقدس مقام کو محفوظ رکھا جا سکے اور اسرائیل کو ایسی حرکتوں سے روکا جا سکے۔
بیان میں زور دیا گیا کہ مسجد اقصیٰ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ عالمِ اسلام کے ایمان، تاریخ اور شناخت کی علامت ہے، اور اس پر کسی بھی قسم کی جارحیت ناقابلِ قبول ہے۔
مسجد اقصیٰ کے نیچے اسرائیل کی خفیہ کھدائی، اسلامی آثار مٹانے کی سازش








