بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

 انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف جینو سائیڈ اسکالرزنے اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی کامرتکب قراردے دیا

دنیا کی سب سے بڑی نسل کشی پر تحقیق کرنے والی علمی تنظیم “انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف جینو سائیڈ اسکالرز” (IAGS) نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے جرم کا مرتکب ہو رہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق انجمن نے ایک باقاعدہ قرارداد منظور کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے اقدامات اقوام متحدہ کے 1948ء کے نسل کشی کنونشن کے تحت نسل کشی کی تعریف پر پورے اترتے ہیں۔

قرارداد کے اہم نکات:

انجمن کے 500 ارکان میں سے 86 فیصد نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔

اسرائیلی پالیسیوں اور اقدامات کو قانونی طور پر نسل کشی قرار دیا گیا۔

قرارداد میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ:

فلسطینی شہریوں، خاص طور پر بچوں، پر حملے بند کرے

انسانی امداد، پانی، خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی روکے بغیر جاری رکھے

جبری بے دخلی اور جنسی تشدد جیسے اقدامات بند کرے

اسرائیل پر عالمی تنقید میں اضافہ

تنظیم کی صدر، پروفیسر میلانی اوبرائن نے کہا کہ یہ بیان ماہرین نسل کشی کی طرف سے ایک علمی اور حتمی موقف ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ نسل کشی ہے۔

اس وقت اسرائیل بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) میں بھی مقدمے کا سامنا کر رہا ہے، جہاں اس پر نسل کشی کے الزامات زیرِ سماعت ہیں۔

حماس پر بھی تنقید

قرارداد میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر حملہ کرنے والی حماس کی کارروائیاں — جنہوں نے اکتوبر 2023 میں اسرائیلی علاقوں پر حملہ کر کے 1200 افراد کو قتل اور 250 سے زائد کو یرغمال بنایا — بھی بین الاقوامی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔

فلسطینی ردعمل اور عالمی دباؤ

غزہ کی حکومت کے میڈیا آفس کے سربراہ اسماعیل الثوابہ نے قرارداد کو “باعزت علمی مؤقف” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی برادری پر ایک قانونی اور اخلاقی ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ اس نسل کشی کو روکے اور اسرائیلی قیادت کو جوابدہ بنائے۔

ادھر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک کو بھی ان کے اپنے دفتر کے سینکڑوں اہلکاروں نے خط لکھا، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ غزہ کی صورتحال کو نسل کشی کے طور پر تسلیم کیا جائے۔