بیلجیئم نے فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے اور اسرائیل کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔
بیلجیئم کے وزیر خارجہ میکسم پریوٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام غزہ میں انسانی بحران اور اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے جواب میں اٹھایا جا رہا ہے
🇧🇪🇵🇸🚨La Palestine sera reconnue par la Belgique lors de la session de l’ONU ! Et des sanctions fermes sont prises à l’égard du gouvernement israélien. Tout antisémitisme ou glorification du terrorisme par les partisans du Hamas sera aussi plus fortement dénoncé.
🔸Au vu du…
— Maxime PREVOT (@prevotmaxime) September 2, 2025
ساتھ ہی بیلجیئم نے اسرائیل پر 12 سخت پابندیاں عائد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، ان میں غیر قانونی یہودی بستیوں سے آنے والی مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی، اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ سرکاری معاہدوں کا دوبارہ جائزہ، اور اسرائیلی پروازوں و ٹرانزٹ پر پابندیاں شامل ہیں
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ پابندیاں براہِ راست اسرائیلی عوام پر نہیں بلکہ ان کی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہیں تاکہ انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے
یہ فیصلہ فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا وغیرہ کے بعد آیا ہے۔ یہ تمام ممالک بھی اس ماہ اقوامِ متحدہ میں فلسطین کی ریاستی حیثیت کے اعلان پر متفق ہیں









