بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اسرائیل فلسطین کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا، دنیا صرف مذمت تک محدود ہے،محمود عباس

فلسطینی صدر محمود عباس نے العربیہ اور الحدث چینلز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل کا مقصد فلسطین کو مکمل طور پر تباہ کرنا ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں کم از کم دو لاکھ افراد یا تو ہلاک ہوچکے ہیں یا زخمی، لیکن عالمی برادری محض مذمت تک محدود ہے۔

عباس نے کہا کہ فلسطینی برسوں سے بین الاقوامی فیصلوں کے غیر مؤثر ہونے کے عادی ہیں۔ ہمارے پاس فلسطین کے حق میں اقوام متحدہ کی ایک ہزار قراردادیں موجود ہیں لیکن کوئی بھی نافذ نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق غزہ میں صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ جو لوگ بمباری سے نہیں مر رہے وہ بھوک سے دم توڑ رہے ہیں، اور بھوک سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد شہدا سے بھی زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو فلسطینی عوام کے مکمل صفایا کے درپے ہیں۔ نیتن یاھو اپنی سیاسی بقا کے لیے جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں تاکہ اسرائیل میں ان کے خلاف مقدمات نہ کھل سکیں۔

عرب ممالک کا کردار اور بے دخلی کے خدشات

صدر عباس نے اعتراف کیا کہ اردن اور مصر نے فلسطینی عوام کی بے دخلی روکنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی اس وقت سفارتی محاذ پر سرگرم ہے تاکہ جنگ کو روکا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم غزہ کے انتظام سنبھالنے کے لیے تیار ہیں اور ہمارے پاس اس کے لیے تمام وسائل موجود ہیں۔ اگر عرب یا بین الاقوامی ادارے ہمارے ساتھ شراکت داری کریں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔

فلسطینی ریاست اور اوسلو معاہدہ

محمود عباس نے کہا کہ نیتن یاھو ایک آزاد فلسطینی ریاست کے سخت مخالف ہیں، حالانکہ فلسطینی قیادت نے 1988 میں اسرائیل کو تسلیم کر لیا تھا۔ ان کے مطابق اب تک 149 ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں اور کئی مزید ممالک ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی اقوام متحدہ سے مکمل رکنیت کے لیے درخواست دے گی۔


انہوں نے زور دیا کہ اوسلو معاہدہ کسی بھی طرح فلسطینی رعایت نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعے 18 لاکھ فلسطینیوں کو وطن واپسی کا موقع ملا۔ نیتن یاھو اس معاہدے کو ختم یا معطل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، لیکن یہ ایک دو طرفہ معاہدہ ہے اور اسے یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

حماس کے ساتھ تعلقات

عباس نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی جنگ نہیں چاہتی اور اس کی حکمت عملی پرامن عوامی مزاحمت پر مبنی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ حماس کے ساتھ کئی بار مذاکرات کر چکے ہیں مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ ان کے مطابق حماس کو فلسطینی قیادت اور اس کی قانونی ذمہ داریوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینی ایک ریاست اور ایک قوم ہیں، اس لیے ایک ہی ہتھیار اور ایک ہی قانون ہونا چاہیے۔

لبنان میں فلسطینی کیمپ اور ہتھیار

لبنان میں فلسطینی پناہ گزین کیمپوں کے حوالے سے محمود عباس نے کہا کہ ان کی سکیورٹی صورتحال پر بات پچھلے 15 سال سے جاری ہے۔ 1969 میں ان ہتھیاروں کا ایک مقصد تھا جو اب ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ لبنانی صدر جوزف عون کے ساتھ اس بات پر متفق ہیں کہ فلسطینی کیمپوں کے ہتھیار واپس لیے جائیں اور یہ اختیار ریاست لبنان کے پاس ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی ہتھیار لبنان کے پاس امانت کے طور پر رہیں گے اور ہم لبنان کی خودمختاری اور سکیورٹی میں کسی رکاوٹ نہیں بنیں گے۔

سعودی عرب کا موقف

محمود عباس نے کہا کہ سعودی عرب اپنے تمام پرانے مؤقف پر قائم ہے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے معاملے میں کسی مفاد کو ترجیح نہیں دے گا۔ ان کے مطابق سعودی قیادت نے ہمیشہ فلسطینی عوام کی حمایت کی ہے اور آئندہ بھی یہ تعاون جاری رہے گا۔