وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر سینیٹ الیکشن کے ٹکٹوں کی تقسیم پر ہونے والی تنقید پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
پشاور میں ایک اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے گنڈا پور کا کہنا تھا کہ سینیٹ ٹکٹوں کی تقسیم میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں تھا، “ہم نے صرف عمران خان کے حکم پر عمل کیا، کیونکہ یہ پارٹی انہی کی ہے”۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جان بوجھ کر ان کی عمران خان سے ملاقات نہیں ہونے دی جارہی تاکہ ان کا براہِ راست رابطہ قائد سے منقطع رہے، جس کے باعث پارٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے اور اندرونی اختلافات میں شدت آ رہی ہے۔
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات نہ ہونے دینا “دوستی نہیں، بلکہ دشمنی” ہے۔ ان کے مطابق، پارٹی کے اندر کچھ عناصر ایسے ہیں جو انتشار کو فروغ دے رہے ہیں، اور بدقسمتی سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہو رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے یاد دلایا کہ سینیٹ الیکشن کے لیے امیدواروں کے نام عمران خان کی جانب سے آئے تھے، لیکن کئی لوگوں نے ان ناموں کو جھوٹا قرار دیا۔ بعد میں جب عمران خان نے خود ان ناموں کی تصدیق کر دی، تب بھی کسی نے معافی نہیں مانگی۔
علی امین گنڈاپورکے مطابق کسی نے یہ نہیں کہا کہ میں غلط تھا، یا معذرت چاہتا ہوں۔ بے شرمی کی انتہا تو یہ ہے کہ جھوٹ بول کر بھی ڈھٹائی سے خاموش بیٹھے ہیں۔
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ان کی عمران خان سے آخری ملاقات 2 اپریل کو ہوئی تھی، اور اس کے بعد سے اب تک براہِ راست رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔
پارٹی انتشار کا شکار ہے، تنقید کرنے والے بے شرم ہیں، علی امین گنڈا پور








