پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی اور مؤثر عسکری سفارت کاری نے عالمی سطح پر اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ بین الاقوامی جریدے “دی ڈپلومیٹ” کی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا میں بدلتی ترجیحات کے تناظر میں امریکا کا جھکاؤ اب بھارت کی بجائے پاکستان کی جانب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان، جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے لیے ایک اہم پارٹنر کے طور پر ابھر رہا ہے، جب کہ بھارت کے ساتھ امریکا کے تعلقات میں اب پہلے جیسی گرمجوشی نہیں رہی۔ خاص طور پر حالیہ پاک بھارت کشیدگی نے واشنگٹن کے اندازے اور ترجیحات کو کافی حد تک متاثر کیا ہے۔
دی ڈپلومیٹ کا کہنا ہے کہ بدلتے حالات میں بھارت کے لیے جنوبی ایشیا میں ’’نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر‘‘ کا کردار ادا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان اور امریکا کے درمیان مشترکہ مفادات میں ہم آہنگی بڑھ رہی ہے، جو دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید مستحکم کر رہی ہے۔ امریکا اب بھارت کو خطے میں متبادل پارٹنر کے طور پر نہیں دیکھ رہا، اور یہ تبدیلی نئی دہلی کے لیے ایک تشویشناک علامت بن چکی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ بھارت نے بلوچستان میں خفیہ مداخلت کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی، اور وہاں ٹارگٹ کلنگ کی مہم بھی چلائی۔ پاکستان کی جانب سے بارہا امن کی پیش کش کی گئی، لیکن بھارت نے ہمیشہ اس کا جواب کشیدگی بڑھا کر دیا۔
مزید برآں، مئی 2025 میں پیش آنے والے پاک بھارت تنازع نے ایٹمی تصادم کے خدشات کو بھی ہوا دی، تاہم امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ممکن بنائی۔
رپورٹ کے مطابق بھارت کی مذاکرات سے مسلسل گریز کی پالیسی نہ صرف خطے کے لیے خطرناک ہے بلکہ امریکا کے ساتھ اس کے تعلقات میں بھی عدم استحکام اور بے یقینی پیدا کر رہی ہے۔
امریکا کی ترجیحات میں پاکستان کا اضافہ، بھارت کی خطے میں مداخلت بے نقاب ، دی ڈپلومیٹ








