بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عمران خان کی ہدایت کے باوجود 26 ارکان نے قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ نہیں دیا، فہرست سامنے آگئی

  سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی واضح ہدایات کے باوجود سنی اتحاد کونسل سے تعلق رکھنے والے 26 اراکینِ قومی اسمبلی نے تاحال پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ نہیں دیا۔
یاد رہے کہ عمران خان نے گزشتہ منگل کو پارٹی سے وابستہ تمام اراکین قومی اسمبلی کو قائمہ کمیٹیوں کی رکنیت چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔ ان ہدایات کے تحت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر سمیت پی ٹی آئی کے 51 ارکان نے اپنی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا   تاہم پارلیمانی ذرائع کے مطابق 26 اراکین نے پارٹی قیادت کی ہدایت پر عمل نہیں کیا اور بدستور پارلیمانی کارروائیوں اور کمیٹی اجلاسوں کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ ارکان ابھی تک قائمہ کمیٹیوں کے باقاعدہ رکن ہیں اور ان کا کوئی تحریری استعفیٰ موصول نہیں ہوا۔
استعفیٰ نہ دینے والے ارکان کی فہرست میں  سلیم رحمان، سہیل سلطان، محمد بشیر خان، محمد نواز خان، محمد عاطف، شیر علی ارباب، ذوالفقار علی، نسیم علی شاہ، شیر افضل خان،محمد مبین عارف،اسامہ احمد میلا،محمد مقداد علی خان، غلام محمد، علی افضل ساہی، محمد سعد اللہ، عمر فاروق، محمد ریاض خان فتیانہ،محمد محبوب سلطان،سردار محمد لطیف خان کھوسہ،عائشہ نذیر،میاں غوث محمد،محمد معظم علی خان،فیاض حسین، عنبر مجید، خواجہ شیراز محمودشامل ہیں۔
اندرونی اختلافات کی نشاندہی
سیاسی مبصرین اور پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اراکین کا فیصلہ پارٹی کے اندرونی اختلافات کو نمایاں کر رہا ہے۔ بظاہر یہ ارکان پارلیمانی سیاست میں مؤثر کردار ادا کرنے کے خواہش مند ہیں اور کمیٹیوں سے الگ ہو کر خود کو غیر مؤثر بنانے سے گریزاں ہیں۔   یہ صورت حال نہ صرف عمران خان کی سیاسی حکمت عملی کے لیے چیلنج ہے بلکہ سنی اتحاد کونسل اور پی ٹی آئی کے اتحاد میں موجود پالیسی اختلافات کو بھی نمایاں کر رہی ہے۔

سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے زیر بحث ہے کہ آیا پارٹی ڈسپلن کو نظرانداز کرنے والے ان اراکین کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی یا قیادت انہیں آئندہ بھی برداشت کرتی رہے گی۔