ایک امریکی وفاقی عدالت نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سےہارورڈ یونیورسٹی کے فنڈز میں کی گئی کٹوتی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئےفیصلہ کالعدم کر دیا ہے۔ یہ کٹوتی یونیورسٹی پریہود دشمنی اور جانبداری کے الزامات کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ 2 ارب ڈالر سے زائد کی رقم منجمد کی گئی تھی۔
ٹرمپ انتظامیہ نے رواں سال اپریل میں غزہ جنگ کے خلاف ہارورڈ کیمپس میں ہونے والے مظاہروں کے دوران مبینہ طور پریہودی اور اسرائیلی طلبہ کے تحفظ میں ناکامی کو جواز بنا کر ہارورڈ یونیورسٹی کے لیے مختص دو ارب ڈالر سے زائد کی رقم روک لی تھی۔
ہارورڈ کی جانب سے الزامات کی تردید
ہارورڈ یونیورسٹی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرمپ حکومت کا اصل مقصدیونیورسٹی کی خودمختاری پر اثر انداز ہونا ہے، تاکہ ادارے کی بھرتیوں، داخلہ پالیسی اور نصاب پر سیاسی اثر و رسوخ قائم کیا جا سکے۔
عدالتی فیصلے کی تفصیل
بوسٹن کی وفاقی جج ایلیسن بوروغز نے بدھ کے روز اپنے فیصلے میں کہا کہ عدالت ٹرمپ انتظامیہ کے وہ تمام احکامات کالعدم قرار دیتی ہے جو ہارورڈ کے فنڈز منجمد یا منسوخ کرنے سے متعلق تھے، کیونکہ یہ امریکہ کے آئین کی پہلی ترمیم (آزادیِ اظہار) کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ14 اپریل 2025 یا اس کے بعد جاری کیے گئے تمام احکامات غیر مؤثر سمجھے جائیں گے، اور مستقبل میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات غیر آئینی تصور ہوں گے۔
انتظامیہ کی جانب سے اپیل کا اعلان
ٹرمپ انتظامیہ کے ترجمان نے عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل کریں گے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنا اقدام قانونی دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کیا تھا تاکہ طلبہ کو محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
امریکی عدالت کا ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا جھٹکا








