بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بھارت میں امریکی اشیاکا بائیکاٹ(مہم شروع)

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی برانڈز سے تجارتی کشیدگی کے دوران ہندوستانی صارفین میں ’’سودیشی‘‘ جذبات اُبھارنے کی مہم زور پکڑ رہی ہے۔ صارفین کی معروف کمپنی ڈابر نے صفحہ اول کے اشتہار میں بغیر نام لیے کولگیٹ کو نشانہ بنایا، جسے امریکی برانڈ قرار دے کر خود کو’’ہندوستانی متبادل‘‘ کے طور پر پیش کیا۔
اشتہار میں کولگیٹ سے مشابہ پیکیجنگ دکھا کر لکھا گیا’’وہاں پیدا ہوا، یہاں نہیں‘‘ — ساتھ ہی امریکی پرچم کے رنگوں کا استعمال کیا گیا۔ ڈابر نے اس پر تبصرے سے گریز کیا، جبکہ کولگیٹ نے بھی رائٹرز کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔
یہ مہم ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار پھربھارتی اشیاء کے استعمال پر زور دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ کی جانب سے ہندوستانی مصنوعات پر ٹیرف لگانے کے بعد سوشل میڈیا پر امریکی برانڈز کے بائیکاٹ کی مہم بھی جاری ہے۔
ڈابر فی الحال 17 فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ بھارت کی تیسری بڑی ٹوتھ پیسٹ کمپنی ہے، جبکہ کولگیٹ 43 فیصد کے ساتھ سرفہرست ہے۔
ماہرین اس رجحان کو’’لمحاتی مارکیٹنگ‘‘ قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد موجودہ قومی جذبات سے فائدہ اٹھانا ہے۔ امول اور Rediff جیسے دیگر برانڈز بھی اسی انداز کی مقامی تشہیری مہمات چلا رہے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ امریکہ،بھارت تجارتی کشیدگی کے بیچ ڈابر نے کولگیٹ جیسے غیر ملکی برانڈز کے مقابلے میں خود بھارتی متبادل کے طور پر پیش کیا ہے، جبکہ دیگر برانڈز بھی مقامی اشیاء کو فروغ دینے کے لیے قوم پرستی پر مبنی مارکیٹنگ کر رہے ہیں۔