ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کون رہے گا اور کون نہیں، اس کا فیصلہ پاکستان خود کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر دستاویزی افراد کو ملک سے واپس بھیجا جائے گا، کیونکہ یہ پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شفقت علی خان نے بتایا کہ افغان مہاجرین کا مسئلہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعلیٰ سطحی بات چیت کا حصہ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو امید ہے کہ جرمنی، اپنے وعدے کے مطابق، ان افغان شہریوں کو قبول کرے گا جنہیں وہاں پناہ دینے کا کہا گیا ہے۔
ترجمان نے افغانستان میں حملوں سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے، دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کے لیے افغان حکام سے مزید تعاون کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق، دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں — خاص طور پر افغانستان میں — دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔
شفقت علی خان نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے افغان مہاجرین کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کو دوٹوک انداز میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملکی فیصلے پاکستان خود کرے گا، اور افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف مزید عملی تعاون کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہوں گے، ترجمان دفتر خارجہ








