جماعت اسلامی پاکستان کے امیرحافظ نعیم الرحمان نے شمالی علاقہ جات میں ماحولیاتی تباہی کا ذمہ دارجنگلات کی بے دریغ کٹائی کو قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومتوں کے فنانسرز اور بااثر افراداس کٹائی میں ملوث ہیں۔
نجی نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق، محفوظ مستقبل، آبی وسائل کا مؤثر انتظام اور ماحولیاتی تحفظ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی مسائل میں اضافے کی بنیادی وجہ حکومتوں کی ناکام پالیسیز اور مفاد پرست عناصر کی پشت پناہی ہے۔
درختوں کی کٹائی میں ملوث عناصر کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔پانی کا بحران جماعت اسلامی کےری بلڈ پاکستان منصوبے کا اہم حصہ ہوگا۔ ارلی وارننگ سسٹم نہ لگانا سنگین غفلت ہے۔ 2017 میں ملنے والے قرضے کے باوجود کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ حادثات کے بعد ادارے جاگتے ہیں، پیشگی تیاری کا کوئی تصور نہیں۔ حافظ نعیم نے زور دیا کہ اگر حکومت کے پاس کالاباغ ڈیم کے حق میں ٹھوس دلائل ہیں تو انہیں سامنے لایا جائے، لیکن ہر بار اس معاملے کواصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور میں راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) کے منصوبے کو پرانی اور نئی حکومتوں دونوں نے سپورٹ کیا، حالانکہ یہ منصوبہ مقامی ماحولیات کے لیے خطرہ ہے۔
ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے پیچھے وہی لوگ ہیں جو حکومتوں کے مالی مددگار ہیں، یہ ایک منظم مافیا ہے جو ایک دوسرے کا تحفظ کرتا ہے۔امیر جماعت اسلامی نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکن ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، چاہے حالات کتنے بھی مشکل کیوں نہ ہوں۔
درختوں کی کٹائی میں حکومتوں کےاے ٹی ایمز ملوث ہیں،حافظ نعیم الرحمان








