پنجاب میں 2022 اور 2023 کے دوران سرکاری اسکولوں سے بڑی تعداد میں سولر پینلز چوری ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ان واقعات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کی پولیس کے ذریعے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صرف ضلع راجن پور کے 50 اسکولوں سے سولر پینلز غائب ہوئے۔ کمیٹی نے اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیا اور ذمہ دار اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھائے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تھری کا اجلاس تنویر اسلم ملک کی سربراہی میں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ جن اضلاع میں یہ چوریاں ہوئیں، وہاں کے ڈسٹرکٹ پولیس افسران کو سخت خط لکھا جائے۔ انہوں نے محکمہ تعلیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے معاملہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی پر ڈال رہا ہے۔
کمیٹی نے ہدایت دی کہ تفصیل پیش کی جائے کہ کتنے اسکولوں سے سولر پینلز چوری ہوئے اور اب تک کتنی ریکوری ہوئی ہے۔
محکمہ تعلیم نے بتایا کہ سولر پینلز کی چوری پر ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔ تاہم آڈٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ ایف آئی آر کے بعد بھی ریکوری کے لیے کوئی عملی اقدام سامنے نہیں آیا۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی پر بھی الزام لگایا گیا کہ وہ اسکولوں میں نصب سولر پینلز کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی۔









