صدر آصف علی زرداری نے سندھ میں متوقع شدید بارشوں کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو فوری الرٹ رہنے اور عوام کی حفاظت کے لیے پیشگی انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ۔
صدرمملکت نے ہدایت کی کہ صوبائی، ضلعی اور بلدیاتی سطح پر تمام ادارے ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری میں رہیں۔ خاص طور پر نشیبی اور ساحلی علاقوں میں پیشگی حفاظتی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
ریلیف مشینری اور عملہ متحرک رکھا جائے
صدر زرداری کا کہنا تھا کہ ہر ضلع اور تحصیل میں ریلیف مشینری اور عملہ ہمہ وقت مستعد رہے، جب کہ حب ڈیم سمیت تمام آبی ذخائر کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا اور مقامی انتظامیہ عوامی آگاہی مہم میں کلیدی کردار ادا کریں اور شہریوں کو حفاظتی تدابیر اختیار کرنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ترغیب دیں۔
این ڈی ایم اے کی وارننگ: سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب خطرے کی زد میں
دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی ریاستوں گجرات اور راجستھان کے قریب موجود بارش برسانے والا موسمی نظام، پاکستان میں سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کو متاثر کر سکتا ہے۔
ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق یہ بارشیں 10 ستمبر تک وقفے وقفے سے جاری رہ سکتی ہیں۔ کوہِ سلیمان اور جنوبی پنجاب میں شدید سے انتہائی شدید بارشوں کا امکان ہے، جبکہ شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کا بھی خطرہ موجود ہے۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کو تیز اور مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کی بروقت امداد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر جامع حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خطرے سے دوچار علاقوں میں پیشگی اطلاعات، پائیدار انفراسٹرکچر اور مربوط نظام کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے۔
احتیاطی ہدایات برائے عوام
نشیبی علاقوں سے بروقت محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں
سرکاری ہدایات پر عمل کریں
کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ یا ریسکیو اداروں سے رابطہ کریں









