بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

افغان پناہ گزینوں کے لیے واپسی کے اقدامات سخت، 5 لاکھ سے زائد موبائل سمز بند

 

پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کے لیے وطن واپسی کی مہلت ختم ہونے کے بعد حکومت نے واپسی کے اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ اب نہ صرف قانونی کارروائیاں بڑھا دی گئی ہیں بلکہ افغان شہریوں کے زیرِ استعمال موبائل فون سمز بند کرنے کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق، اب تک 5 لاکھ سے زائد ایسی موبائل سمز بلاک کی جا چکی ہیں جو افغان شہریوں کے زیرِ استعمال تھیں۔ یہ عمل مرحلہ وار جاری ہے اور ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود مزید سمز بند کی جا رہی ہیں۔

پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ جن افغان شہریوں کی سمز درست شناختی دستاویزات جیسے کہ پاسپورٹ، ویزا یا رجسٹرڈ کارڈز پر جاری ہوئیں، وہ اس بندش سے محفوظ ہیں۔

ادھر اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو کرائے کے گھروں میں رہنے سے روکا جا رہا ہے، خاص طور پر ان کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے جن کے کاغذات کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر جی-6 میں واقع ارجنٹائن پارک میں درجنوں افغان پناہ گزینوں نے عارضی کیمپ لگا لیے ہیں کیونکہ ان کے پاس رہنے کا اور کوئی متبادل نہیں بچا۔

افغان پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ ان کی تمام موبائل سمز بند ہو چکی ہیں، جس کے باعث وہ اب دوستوں کے نام پر جاری کردہ پاکستانی سمز استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

یاد رہے کہ وفاقی وزارتِ داخلہ کی جانب سے افغانستان کے شہریوں کو ملک چھوڑنے کے لیے 31 اگست تک کی مہلت دی گئی تھی۔ حکومتی پالیسی کے مطابق، اس تاریخ کے بعد کسی بھی افغان پناہ گزین کو—چاہے اس کے پاس رجسٹریشن کارڈ ہو یا نہ ہو—پاکستان میں رہنے کی اجازت نہیں ہو گی۔