بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کراچی؛ بارش کا سسٹم ڈیپ ڈپریشن سے ڈپریشن میں تبدیل ہوگیا

کراچی(نیوز ڈیسک)مون سون کا حالیہ سسٹم جس نے کراچی سمیت سندھ کے کئی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، شدت میں کچھ کمی کے بعد ڈیپ ڈپریشن سے ڈپریشن میں تبدیل ہوگیا ہے، تاہم محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ اب بھی طاقتور موسمی نظام ہے اور آج شہر قائد میں دوپہر کے بعد تیز اور موسلا دھار بارش کے کئی اسپیل برسا سکتا ہے۔

محکمہ موسمیات کے ترجمان انجم نذیر ضیغم کے مطابق یہ سسٹم اس وقت حیدرآباد سے تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے، جہاں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 85 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ تھرپارکر کے علاقے ڈیپلو میں سب سے زیادہ 108 ملی میٹر بارش ہوئی۔ ترجمان نے بتایا کہ یہ سسٹم مزید مغرب کی سمت حرکت کرتے ہوئے 11 ستمبر تک بلوچستان کے ساحلی علاقوں تک پہنچ کر ختم ہوگا۔

کراچی میں آج شدید بارش کے 4 سے 6 اسپیل متوقع ہیں جن میں بعض مقامات پر بارش 100 ملی میٹر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے ماہرین کے مطابق یہ غیر معمولی موسم کا نظام بھارت کی طرف سے سندھ میں داخل ہوا ہے اور اس کے پیچیدہ راستے کی وجہ سے مختلف علاقوں میں بارش کی شدت بھی مختلف رہ سکتی ہے۔

شدید بارش کے پیش نظر اربن فلڈنگ کے خطرے کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شہر کے نشیبی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ برساتی نالوں اور ملیر ندی میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافہ شہریوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ گزشتہ روز ملیر ندی میں طویل عرصے بعد سیلابی کیفیت پیدا ہوئی جس سے قریبی آبادیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

موسم کی خرابی کے باعث تعلیمی سرگرمیوں پر بھی اثر پڑا ہے۔ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی نے آج کے تمام امتحانات ملتوی کرنے اور ورک فرام ہوم پالیسی نافذ کرتے ہوئے آن لائن کلاسز لینے کا اعلان کیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے کہا کہ طلبہ اور اسٹاف کے تحفظ کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

شہر میں گزشتہ روز سے وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث کئی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا ہے۔ نارتھ کراچی، اورنگی ٹاؤن، کورنگی، لیاری اور صدر کے نشیبی حصوں میں نکاسی آب کے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ شہری انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو الرٹ کردیا گیا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، بجلی کے کھمبوں اور ننگی تاروں سے دور رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو ہیلپ لائنز پر رابطہ کریں۔

یہ غیر معمولی موسمی سسٹم آنے والے دو روز تک شہر میں مشکلات پیدا کرسکتا ہے، اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے گھروں میں رہنا بہتر ہوگا۔