بھارت نے کشیدہ سیاسی ماحول کے باوجود انسانی ہمدردی کے تحت 67 پاکستانی قیدی رہا کر دیے جنہیں واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا۔ ان قیدیوں میں 53 ماہی گیر اور 14 عام شہری شامل ہیں، جو کئی برسوں سے بھارتی جیلوں میں قید تھے۔
کئی سال بعد گھر کی دہلیز پر واپسی
واپس آنیوالے قیدیوں میں زیادہ تر کا تعلق کراچی اور سندھ کے دیگر ساحلی علاقوں سے ہے۔ یہ ماہی گیر معمول کے مطابق سمندر میں مچھلی پکڑنے گئے تھے، مگر بدقسمتی سے سمندری حدود کی مبینہ خلاف ورزی پر بھارتی فورسز نے گرفتار کر لیا تھا۔
ایک نوجوان ماہی گیر، جسے 19 برس کی عمر میں گرفتار کیا گیا تھا، 15 برس بعد اپنے والد سمیت واپس وطن پہنچا ہے۔ ان کے ساتھ گرفتار 15 میں سے 2 ساتھی بھارتی جیلوں میں ہی جان کی بازی ہار گئے، جبکہ باقی تاحال قید ہیں۔
ہائی کمیشن کی معاونت، قیدیوں کی جلد واپسی کی امید
پاکستانی ہائی کمیشن نئی دہلی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ 7 پاکستانی شہری، جن میں 48 ماہی گیر اور 19 سول قیدی شامل ہیں، اٹاری-واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان پہنچے۔ دہلی میں پاکستانی مشن کے افسران قیدیوں کی واپسی کے عمل کی نگرانی اور معاونت کے لیے خود موقع پر موجود تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت پاکستان بھارتی جیلوں میں قید تمام پاکستانیوں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔
واپسی کے بعد کلیئرنس اور گھروں کو روانگی
سکیورٹی حکام کے مطابق واہگہ بارڈر پر ضروری تفتیش اور سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد تمام قیدیوں کو ان کے گھروں کو بھیج دیا جائے گا تاکہ وہ برسوں بعد اپنے اہل خانہ سے دوبارہ مل سکیں۔
قیدیوں کی فہرست کا تبادلہ بھی ہوا
یہ رہائی ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔ تاہم، یکم جولائی 2025 کو پاکستان اور بھارت نے قیدیوں کی تازہ فہرست کا تبادلہ کیا تھا۔
بھارت کی جانب سے پاکستان کو دی گئی فہرست کے مطابق 463 پاکستانی قیدی بھارتی جیلوں میں موجود ہیں، جن میں 382 عام شہری 81 ماہی گیر شامل ہیں جبکہ پاکستان میں موجود 246 بھارتی قیدیوں میں 53 سول قیدی ہیں
پاک بھارت کشیدہ تعلقات کے دوران 67 پاکستانی قیدی رہا، برسوں بعد وطن واپسی








