اسلام آباد (نیوز ڈیسک) تحریک انصاف کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے موقف کی مسلسل حمایت کو دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ماضی میں پی ٹی آئی نے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کو اپنی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا اور تقریباً 40 ہزار ٹی ٹی پی جنگجوؤں کی بحالی کی وکالت بھی کی، جس کے ویڈیو شواہد موجود ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گردی کے عروج کے دوران خیبرپختونخوا حکومت نے ٹی ٹی پی سے مفاہمت کی تجویز دی تھی۔ مزید کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی مستقل طور پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالتی رہی اور عوامی نیشنل پارٹی، پشتون تحفظ موومنٹ اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے ساتھ مل کر فعال کارروائیوں کو روکنے کی کوششیں کرتی رہی۔
دوسری جانب افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد دہشت گردی اور دراندازی میں افغان شہریوں کی شمولیت تیزی سے بڑھ گئی ہے، جس نے سیکیورٹی اداروں کے لیے مزید چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔









