بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان کا پہلا پانڈا بانڈ جاری کرنے کا منصوبہ سی ڈی ڈبلیو پی نے منظوری دے دی

حکومت پاکستان نے چین کی مالیاتی مارکیٹ میں پہلا پانڈا بانڈ جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جو کہ دونوں ممالک کے مالیاتی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے لیے سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیوپی) نے کنسپٹ کلیئرنس تجویز کی منظوری دے دی ۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق  پاکستان چین کی انٹر بینک بانڈ مارکیٹ سے ابتدائی طور پر 25 کروڑ ڈالر کے مساوی رقم حاصل کرے گا، جبکہ مجموعی طور پر 1 ارب ڈالر کے پانڈا بانڈ پروگرام کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو مختلف مراحل میں حاصل کیا جائے گا۔
چونکہ پاکستان کی بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ کم ہے، اس لیے عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے کریڈٹ انہانسمنٹ گارنٹی حاصل کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ اسی سلسلے میں حکومت نے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) اور ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB) سے معاونت طلب کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، اے ڈی بی 16 کروڑ ڈالر جبکہ اے آئی آئی بی ساڑھے 12 کروڑ ڈالر کی گارنٹی فراہم کرے گا، جس کے بعد بانڈ کو چین کی مارکیٹ میں AAA ریٹنگ ملنے کی توقع ہے — جو کہ وہاں کی سب سے اعلیٰ کریڈٹ ریٹنگ ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق، حکومت کا ارادہ ہے کہ دسمبر 2025 سے قبل پہلا پانڈا بانڈ جاری کر دیا جائے۔ وزارت نے اس اقدام کو “ایک سنگِ میل” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پاکستان کو نہ صرف چین کی بانڈ مارکیٹ تک براہِ راست رسائی حاصل ہو گی بلکہ مالیاتی ذرائع کو بھی متنوع بنانے میں مدد ملے گی۔
پانڈا بانڈز دراصل ایسے قرضے ہوتے ہیں جو غیر ملکی حکومتیں یا ادارے چین کی مقامی کرنسی یوان میں جاری کرتے ہیں۔ اس اقدام سے پاکستان کو چینی سرمایہ کاروں سے مالی معاونت حاصل کرنے کا موقع ملے گا، جبکہ زرمبادلہ کے دباؤ میں بھی ممکنہ کمی آ سکتی ہے۔