بلوچستان کے ضلع خاران کے دور دراز اور پہاڑی علاقے خوکاب میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے خانہ بدوشوں کے کیمپ پر حملہ کر کے تین بھائیوں سمیت چار افراد کو قتل کر دیا، جب کہ چار افراد کو اغوا کر کے فرار ہو گئے۔
ڈپٹی کمشنر خاران منیر احمد نے ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے واقعے کی تصدیق کی اور بتایا کہ جاں بحق اور اغوا ہونے والے تمام افراد مقامی خانہ بدوش تھے اور محمد حسنی بلوچ قبیلے کی ایک ذیلی شاخ سے تعلق رکھتے تھے۔
واقعہ بدھ کی صبح خاران شہر سے تقریباً 70 کلومیٹر مشرق کی جانب تحصیل پتکن کے علاقے خوکاب میں پیش آیا۔ متاثرہ خاندان پہاڑی علاقے میں خیمہ زن تھا اور بنیادی سہولیات سے محروم اس علاقے میں مقیم تھا۔
حملے میں جنگی خان، صاحب خان، نصرت عرف اشرف ولد نیک محمد اور ان کا رشتہ دار ثنا اللہ پیری موقع پر جاں بحق ہوئے، جب کہ صابر اور مقتول ثنا اللہ کے تین بھائی بہادر خان، نوکر خان، اور احمد خان کو اغوا کر لیا گیا۔
علاقے میں مواصلاتی نیٹ ورک نہ ہونے کی وجہ سے پولیس کو اطلاع تاخیر سے ملی۔ متاثرہ خاندان نے بھی فوراً اطلاع نہیں دی، جس کے بعد پولیس نے خود ذرائع سے خبر پا کر موقع پر پہنچ کر کارروائی کا آغاز کیا۔ تاہم خاندان کی جانب سے کسی کو نامزد نہیں کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر خاران کے مطابق علاقے میں قبائلی تنازعات موجود ہیں، تاہم اس واقعے کی حتمی وجوہات تاحال سامنے نہیں آئیں۔ پولیس کے مطابق معاملے کی مختلف زاویوں سے تفتیش کی جا رہی ہے، جن میں قبائلی دشمنی، ذاتی رنجش، یا دہشت گردی جیسے عوامل شامل ہیں۔
پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور اغوا کاروں کی تلاش کے لیے چھاپے مار کارروائیاں جاری ہیں۔
یہ واقعہ بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں سیکیورٹی کی نازک صورتحال اور ریاستی اداروں کی رسائی میں دشواریوں کو اجاگر کرتا ہے، جہاں نہ صرف بنیادی سہولیات کی کمی ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی بر وقت کارروائی سے قاصر رہتے ہیں۔









