بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان میں پہلا اے آئی بیسڈ ڈرائیونگ ٹیسٹ متعارف، امتحان اب ہوگا جدید اور خودکار نظام کے تحت

لاہور میں ڈرائیونگ ٹیسٹ کے روایتی اور اکثر تنقید کا شکار طریقہ کار کو بدلنے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھایا گیا ہے — پاکستان میں پہلی بار آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) پر مبنی ڈرائیونگ ٹیسٹ کار تیار کر لی گئی ہے جو امیدواروں کی جانچ خودکار، شفاف اور غیرجانب دار نظام کے تحت کرے گی۔
کیسی ہے یہ جدید ٹیسٹ کار؟
یہ خاص طور پر تیار کی گئی گاڑی جدید سینسرز، کیمروں اور بائیومیٹرک سسٹم سے لیس ہے، جس کا مقصد ڈرائیونگ ٹیسٹ کے عمل کو مکمل طور پر انسانی مداخلت سے آزاد بنانا ہے۔
 اہم فیچرز
گاڑی کے اندر نصب فیشل ریکگنیشن کیمرہ جو امیدوار کی شناخت اور حاضری کو خودکار طور پر کنفرم کرے گا۔
باہر لگے چار ہائی ٹیک کیمرے جو ڈرائیونگ کے دوران امیدوار کی کارکردگی پر مسلسل نظر رکھیں گے۔
گاڑی کے ڈیش بورڈ میں نصب بائیومیٹرک مشین جس پر فنگر پرنٹ کے ذریعے شناخت کا عمل مکمل کیا جا سکے گا۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی امیدوار کو ایک خودکار اسکرین پر ڈرائیونگ ٹیسٹ سے متعلق مرحلہ وار ہدایات فراہم کی جائیں گی۔
اس نظام سے کیا بدلے گا ؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ڈرائیونگ ٹیسٹ کا عمل نہ صرف شفاف بلکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ہو جائے گا۔
جانبداری، انسانی غلطی یا ذاتی پسند و ناپسند جیسے عوامل کو ختم کر دیا جائے گا۔
امیدواروں کو ہر مرحلے پر واضح اور بروقت رہنمائی ملے گی، جس سے ٹیسٹ مزید موثر اور قابلِ اعتماد ہو جائے گا۔
یہ قدم پاکستان میں ٹرانسپورٹ سسٹم کی ڈیجیٹل اصلاحات کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہے، جس سے نہ صرف عوام کا اعتماد بڑھے گا بلکہ مستقبل میں مزید اسمارٹ سروسز کے دروازے بھی کھلیں گے۔