امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورہ برطانیہ کے دوران، امریکا اور برطانیہ کے درمیان ٹیکنالوجی اور تجارت کے شعبے میں ایک نئے اور تاریخی شراکت داری معاہدے پر دستخط ہوئے۔
لندن میں ہونے والی اس اہم پیش رفت کے موقع پر صدر ٹرمپ اور برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے باہمی تعاون کو نئی جہت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
نجی شعبے میں بڑی ڈیلز، جو برسوں سے زیرِ غور تھیں
نیو یارک ٹائمز کے مطابق، اس معاہدے کے تحت امریکی کمپنی X-Energy اور برطانوی کمپنی Centrica برطانیہ بھر میں ایٹمی ری ایکٹرز لگانے کے منصوبے پر کام کریں گی۔
صدر ٹرمپ نے کہا: یہ معاہدہ برسوں سے صرف باتوں میں تھا، لیکن اب آخرکار حقیقت بن چکا ہے۔” انہوں نے مزید بتایا کہ اس نئی شراکت داری سے نجی شعبے میں متعدد معاہدوں کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔
امریکا-برطانیہ تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط
دونوں رہنماؤں نے لندن میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران امریکا اور برطانیہ کے تعلقات کو “مزید مضبوط اور پائیدار” قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا:
“برطانیہ کے ساتھ ہمارا رشتہ ناقابل شکست ہے۔ ہم سب سے قریبی اور قابلِ اعتماد شراکت دار رہیں گے۔”
وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی اس موقع پر کہا: امریکا ہمارا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اور ہم ٹیکنالوجی، صنعت، اور توانائی کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔”
250 ارب پاؤنڈ کی تاریخی سرمایہ کاری
وزیراعظم اسٹارمر کے مطابق، اس وقت امریکا اور برطانیہ کے درمیان 250 ارب پاؤنڈ کی سرمایہ کاری جاری ہے، جو ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری قرار دی جا رہی ہے۔
اس کے ساتھ ہی ایک نیا دو طرفہ تجارتی معاہدہ بھی طے پایا ہے، جسے دونوں ممالک کے لیے ایک بڑی معاشی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
شاہی استقبال اور ونڈسر کیسل کا خصوصی تجربہ
صدر ٹرمپ کو ان کے اس دورے کے دوران شاہی پروٹوکول بھی دیا گیا۔ ونڈسر کیسل میں بادشاہ چارلس سوم کی جانب سے ان کے اعزاز میں ایک خصوصی شاہی ضیافت دی گئی۔
ٹرمپ نے بادشاہ چارلس کو “عظیم شخصیت اور عظیم بادشاہ” قرار دیتے ہوئے ونڈسر کیسل کے تجربے کو:”زبردست – واقعی زبردست!”
کہا۔









