وزیرِ مملکت برائے مذہبی امور کھئیل داس کوہستانی نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت نے بابا گرونانک کے جنم دن کے موقع پر اپنی سکھ برادری کو پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی، جو کہ نہ صرف مذہبی آزادی کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ سکھ برادری کے مذہبی جذبات کو بھی شدید ٹھیس پہنچاتا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر سال دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کو خوش آمدید کہتا ہے، اور کرتارپور راہداری سمیت تمام مقدس مقامات پر سہولیات فراہم کرتا ہے۔ ایسے میں بھارت کا یہ اقدام نہایت افسوسناک اور غیر منصفانہ ہے۔
وزیرِ مملکت نے بتایا کہ پاکستان میں بابا گرونانک کے جنم دن کے موقع پر خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جن میں دنیا بھر سے سکھ یاتری شریک ہو رہے ہیں — تاہم بھارتی یاتریوں کو روک دیا گیا، جو کہ بین المذاہب ہم آہنگی کے دعووں کی نفی کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ 1974 کے مذہبی یاترا پروٹوکول کے تحت بھارتی یاتریوں کو سہولیات فراہم کی ہیں اور مستقبل میں بھی اس روایت کو برقرار رکھے گا۔”
کھئیل داس کوہستانی نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے رویے پر نظرثانی کرے، مذہبی رواداری کا مظاہرہ کرے اور سکھ برادری کو اُن کی عبادت گاہوں تک رسائی سے نہ روکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اقلیتوں کے مذہبی حقوق کے مکمل تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور ہمیشہ بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیتا رہے گا۔
بابا گرونانک کے جنم دن پر بھارت نے سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے سے روک دیا








