جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی میں شربت فروش کے بچیوں کیساتھ زیادتی کے کیس کی سماعت ہوئی، ریمانڈ مکمل ہونے پر پولیس کی جانب سے ملزم کو پیش کیا گیا۔جس نے عدالت میں بیان ریکارڈ کراتے وقت مجسٹریٹ نے استفسار کیا کہ آپ کو علم ہے کہ آپ کہاں موجود ہیں؟ جس پر ملزم نے جواب دیا’’جی‘‘ میں اس وقت عدالت میں ہوں اور بیان قلمبند کرانے آیا ہوں۔ اس کے بعد ملزم نے متعدد بچیوں سے زیادتی کے گھناؤنے فعل کا اعتراف کرلیا۔
پولیس کے مطابق ملزم شبیر تنولی 2016 سے بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بناتا رہا اور ان کی ویڈیوز بھی بناتا تھا۔ اہلِ علاقہ کی شکایت پر چند روز قبل قیوم آباد سے گرفتار کیا گیا۔ متاثرہ بچیوں نے بھی شناخت پریڈ کے دوران ملزم کی نشاندہی کی جبکہ ان کے بیانات پہلے ہی قلمبند کیے جاچکے ہیں۔
عدالت نے ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، اس موقع پر عدالت میں موجود والدین مشتعل ہوگئے اور ملزم کوشدید زدوکوب کیاکرکے اس کی حالت غیرکر دی۔تاہم پولیس نےفوری طور پر ملزم کو جیل منتقل کردیا۔
بچیوں سے زیادتی کرنیوالے ملزم شبیر تنولی کااعترافِ جرم








