معروف تاجر رہنما حاجی ظفر 17 ستمبر کی شام اپنے دفتر سے نکلنے کے بعداب تک لاپتہ ہیں اور تاحال ان کا کوئی پتا نہیں چل سکا ہے۔
حاجی ظفرکےاہل خانہ کے مطابق شام ساڑھے چار بجے دفتر سے نکلے اور کچھ ہی دیر بعد ان کا موبائل فون بند ہو گیا جب کہ ان کی موٹر سائیکل بھی جی نائن مرکز سے غائب ہے۔
واقعے کو تین روز گزر چکے ہیں تاہم پولیس اور دیگر اداروں کی جانب سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی، جس پر تاجر برادری نے شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
انجمن تاجران پاکستان کے صدر اجمل بلوچ اور دیگر تاجر رہنماؤں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں ایک تاجر کا دن دہاڑے یوں لاپتہ ہونا سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ تاجر رہنما کاشف چوہدری نے واقعے کو اغوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ حاجی ظفر کی گمشدگی کے پیچھے کسی بااثر ہاتھ کی سرپرستی محسوس ہوتی ہے۔
حاجی ظفر کو فوری طور پر بازیاب کر کے قوم کو سچ بتایا جائے۔ تاجر قیادت نے حکومت اور پولیس کو 24 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حاجی ظفر بازیاب نہ ہوئے تو اسلام آباد کی مرکزی شاہراہ کشمیر ہائی وے بند کی جائے گی اور وزیر اعظم ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔
اسلام آباد سے تاجر لاپتہ،تاجر برادری کابازیابی کیلئے 24 گھنٹے کا الٹی








