بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

وزیر اعلیٰ پنجاب کیلئے دوبارہ انتخاب ہونے جا رہا ہے، فریقین تحفظات دور کرلیں، لاہور ہائیکورٹ

لاہور(نیوزڈیسک) لاہور ہائی کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کے لیے انتخاب اور حلف برداری کے خلاف پاکستان تحریک انصاف اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہٰی کی اپیلوں پر سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے دوبارہ انتخاب ہونے جا رہا ہے، فریقین اپنے تمام تحفظات دور لیں۔
جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نےپی ٹی آئی اور چودھری پرویز الہٰی کی اپیلوں پر سماعت کی ۔
سماعت کے دوران جسٹس صداقت علی خان نے ریمارکس دیے کہ اس فل بنچ میں گورنر کے اختیارات کے خلاف اور دیگر کیسز بھی آئے ہیں، عدالت نے مزید کہا کہ ہم 12 بجے تک کیس کو ملتوی کر رہے ہیں۔
جسٹس صداقت علی خان کا مزید کہنا تھا کہ کیس کا فیصلہ آج ہی کرنا چاہتے ہیں. تحریک انصاف کے وکیل اور پنجاب حکومت 12 بجے تک معاملات سے متعلق ہدایات لے کر پیش ہوں۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ 12 بجے عدالت کی معاونت کریں کہ اگر ہم پنجاب اسمبلی کا اجلاس دوبارہ 16 اپریل کی تاریخ پر لے جائیں اور وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے پولنگ دوبارہ ہو تو بحران سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ دوبارہ اجلاس بلانے کی صورت میں بھی پولنگ وہی پریزائڈنگ افسر کروائے گا جس نے 16 تاریخ کو کروائی تھی جس پر تحریک انصاف کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہم نے ڈپٹی اسپیکر کے ذریعے ہونے والی پولنگ کو بھی چیلنج کیا ہے۔ اس موقع پر عدالت کا کہنا تھا کہ الیکشن ڈپٹی اسپیکر ہی کروائے گا کیونکہ اس معاملے پر لاہور ہائی کورٹ کا ایک فیصلہ موجود ہے جسے چیلنج نہیں کیا گیا۔
دوران سماعت ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت سے ایک دن کی مہلت طلب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے چیف منسٹر کو بریف کرنا ہے مزید ایک دن درکار ہے۔
تحریک انصاف کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہم نے حمزہ شہباز کی تعنیاتی کو چیلنج کر رکھا ہے، عدالت نے یہ پوچھا اگر ہم درخواست منظور کر لیتے ہیں تو حالات کیا ہوں گے تاکہ بحران پیدا نہ ہو۔
عدالت میں حمزہ شہباز کے وکیل علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر حمزہ شہباز کے ہوتے ہوئے الیکشن کروائیں گے تو وہ غیر آئینی الیکشن ہو گا، الیکشن کے لیے کم از کم دس روز کا وقت ہونا چاہیے۔
تحریک انصاف کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ صورتحال اب ریورس نہیں ہو سکتی کیوں کہ 25 لوگ ڈی نوٹی فائی ہو گئے، 5 مخصوص نشستوں سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ آ گیا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ 25 اراکین کو نکال کر پریذائیڈنگ افسر نے دیکھنا ہے اکثریت کس کے پاس ہے، ڈی نوٹی فائی ہونے والے افراد اگر اب الیکشن ہوتا ہے تو اس میں شمار نہیں ہوں گے۔
علی ظفر کا کہنا تھا کہ اگر پرانی صورتحال بحال ہوتی ہے تو تب وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار تھے۔
جسٹس صداقت علی خان نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ منحرف اراکین کے ووٹ شمار نہیں ہوں گے، یہ عدالت سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کا حکم جاری کر سکتی ہے۔
جسٹس شاہد جمیل کا کہنا تھا کہ چیف مسنٹر کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن درست ہے یا نہیں یہ لا ڈویژن کا کام ہے ۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہم تو کہہ رہے ہیں سپریم کورٹ نے منحرف اراکین کے ووٹ شمار نہ کرنے کا فیصلہ دیا، ہم نے اس فیصلے پر عملدرآمد کرانا ہے، آپ دس دن کا وقت مانگ رہے ہیں تاکہ مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن ہو جائے، اگر نوٹیفیکیشن ہو بھی جاتا ہے تو وہ لوگ الیکشن میں ووٹ کاسٹ نہیں کر سکیں گے جس پر علی ظفر نے کہا کہ وہ ووٹ کاسٹ کر سکتے ہیں۔
عدالت کا کہنا تھا کہ اگر 16 اپریل کی پوزیشن بحال ہوتی ہے، ایک فریق اکثریت حاصل کر لیتا ہے تو دوسرا فریق اس کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا سکتا ہے کوئی آئینی بحران پیدا نہیں ہو گا۔
دوران سماعت مسلم لیگ (ق) کے وکیل کا کہنا تھا کہ ایک ایم پی اے نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں ووٹ نہیں ڈالا، اس ایم پی اے کا ووٹ بھی چیف مسنٹر کے الیکشن میں شمار گیا ہے۔
اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اب تو دوبارہ انتخاب ہونےجا رہا ہے جس کے تحفظات ہیں وہ اب دور کر لے۔
جسٹس صداقت علی خان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے وکیل علی ظفر نے 10روز اور ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے ایک دن کا وقت مانگا ہے ، وہ ہم دیکھیں گے کہ وقت دینا ہے یا نہیں دینا، ہم تھوڑی دیر میں آگاہ کریں گے کہ ہم مزید وقت دیں گے یا نہیں۔
ان ریمارکس کے بعد ججز اپنے چیمبر میں چلے گئے جب کہ کیس کی مزید سماعت کل صبح 10 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔