ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کو رخصت کرنے کے لیے غیر فطری اتحاد بنایا گیا،اب 11 جماعتی اتحاد میں دراڑیں واضح ہو چکی ہیں،شہباز شریف کواسمبلی میں دو ووٹوں کی برتری ہے، اتحادی جماعتیں ساتھ چھوڑ دیں تو شہباز شریف کی حکومت خطرے میں پڑ جائے گی۔
عوام تو حکومت سے نالاں ہیں جو خواص ہیں جنہوں نے وفادرایاں تبدیل کیں وہ بھی حکومت سے نالاں ہیںاور عمران خان کا ساتھ چھوڑنے کے فیصلے پرپشان ہیں،مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے نے سود کے معاملے پر شہباز شریف کو احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔
سندھ میں بلدیاتی الیکشن کے نتائج کو جے یو آئی ف نے مسترد کر دیا ہے۔ ایم کیو ایم کو بھی شکوہ ہے کہ حکومت ان کو اہمیت نہیں دے رہی۔ایم کیو ایم نے بہادر آباد کو تالے لگا کر سڑکوں پر آنے کی دھمکی دی ہے۔ ایم کیو ایم کا کہنا ہے پیپلز پارٹی نے اپنے وعدے پورے نہیں کئے۔اسلم بھوتانی نے کہا کہ ہم عمران خان اور پی ٹی آئی سے مطمئن تھے۔اسلم بھوتانی کہہ رہے ہیں کہ ان کے حلقہ کوپبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ میں مطلوبہ فنڈز سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
خالد مگسی نے بھی اپنی تقریر میں حکومتی رویے کا شکوہ کیا ہے۔حکومت کا ساتھ دینے پر خالد مگسی بھی نظر ثانی کا کہہ رہے ہیں۔فاٹا کے دو ایم این اے بھی حکومت سے ناراض ہیں۔ جی ڈی اے۔اے این پی ودیگر جماعتوں کو بھی اعتراضات ہیں۔الیکشن کمیشن کی حسن کارکردگی سندھ کے بلدیاتی انتخابات میں کھل کر سامنے آگئی۔
اتحادی جماعتوں نے سندھ کے بلدیاتی الیکشن کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ حکومت کے اتحادی الیکشن کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔اتحادی پولنگ عملے کو یرغمال بنانے اور ووٹ تبدیل کرنے کے الزام لگا رہے ہیں۔گھوٹکی اور سانگھڑ میں ہمارے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے خواہش مند امیدواروں کو اٹھایا گیایرغمال بنایا گیا‘ حس بے جا میں رکھا گیا اور کہا کہ وہ تحریک انصاف کو چھوڑ کر پی پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے۔سندھ کے بلدیاتی الیکشن میں دو ہلاکتیں بھی ہوئیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ملتان میں ٹرک یونین ایسوسی ایشن کے نائب صدرمزمل بھٹی کی اپنے ساتھیوں سمیت تحریک انصاف میں شمولیت اور زین قریشی کی حمایت کے اعلان کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ مخدومزادہ زین حسین قریشی‘ حاجی جاوید اختر انصاری‘ رانا عبدالجبار‘ مزمل بھٹی سمیت ٹرک ایسوسی ایشن اور انجمن تاجران ٹرک اڈہ کے عہدیداروں کی کثیر تعداد اس موقع پر موجود تھی۔انہوں نے کہا حمزہ شہباز پنجاب کے آئینی وزیراعلیٰ نہیں۔ پنجاب میں نیا آئینی بحران جنم لینے والا ہے۔ حمزہ شہباز شریف کا وزیر اعلیٰ کا الیکشن کالعدم قرار ہو سکتا ہے۔ہو سکتا ہے لاہور ہائیکورٹ دوبارہ الیکشن کا حکم دے دے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 197 میں سے 25 لوٹوں کو منفی کرتے ہیں تو 172 وٹ رہ جاتے ہیں۔ 5خصوصی نشستوں کے نوٹیفکیشن کے بعد تحریک انصاف کے بن جاتے ہیں 173 تو حمزہ شہباز کا الیکشن غیر موثر ہوسکتا ہے۔پنجاب کی انتظامیہ جانبداری کا مظاہرہ نہ کرے۔پنجاب کی انتظامیہ کو ہوش کے ناخن لینا چاہئیے۔ اورپنجاب کی انتظامیہ قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی ڈیوٹی سر انجام دیں۔انہوں نے کہا لوگ موجودہ حکومت سے تنگ آ چکے ہیں۔مہنگائی نے عوام کا کچومر نکال دیا ہے۔عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ سے بہت تنگ ہیں۔ خرم دستگیر نے تو دلا سے دئیے تھے کے لوڈشیڈنگ کم ہو گی۔لیکن دیہی علاقوں میں 16، 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ شہباز شریف نے جولائی میں زیادہ لوڈشیڈنگ کی خوش خبری سنائی ہے۔کراچی پاکستا ن کا دل ہے۔ جبکہ کراچی میں معیشت کا پہیہ چلتا ہے تو ملک کا پہیہ چلتا ہے۔ کراچی میں گزشتہ کئی روز سے لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کئے جا رہے ہیں۔ اس احتجاج کی کال کال تحریک انصاف نے نہیں دی بلکہ کراچی کی عوام خود لوڈشیڈنگ سے تنگ آکر سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اور ابھی جولائی کے بل دیکھ کر لوگ احتجاج کریں گے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے دو جولائی کو اسلام آباد میں پر امن احتجاج کی کال دی ہے۔ دو جولائی کو پاکستان کے تمام شہروں میں پر امن احتجاج کیا جائے گا۔اس احتجاج کی کال عمران خان نے لوڈشیدنگ کے ستائے عوام سے اظہار یکجہتی اورہمدردی کرنے کے لئے دی ہے۔ انہوں نے کہا ٹرانسپورٹرز بھی موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے خوش نہیں۔موجودہ حکومت نے پٹرول 84 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت 118 روپے مہنگا کیا ہے۔یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر 10 فیصد ریکولیٹری ٹیکس لگا یا جارہا ہے۔ جس سے پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ جس کا اثر ٹرانسپورٹ سمیت ہر چیز پر ہوگا۔ مجھے ٹرانسپورٹرز نے بتایا کہ تحریک انصاف کے دور میں جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 5 روپے اضافہ ہوا تو اپوزیشن نے احتجاج کیا۔گزشتہ تین ہفتوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں 56 فیصدجبکہ ڈیزل کی قیمتوں میں 86 فیصد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ ایسے حالات میں ٹرانسپورٹرز گاڑیاں کھڑی کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ کیونکہ ان کرایوں میں ٹرانسپورٹرز اپنے اخراجات پورے نہیں کرسکتے۔ اور واپڈا کے بعد ٹرانسپورٹرز بھی احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔انہوں نے کہا یہ حکومت ہر شعبہ میں ناکام ہو رہی ہے سیاسی بے یقینی کی وجہ حالات مزید خراہو رہے ہیں۔ہم نے معیشت کو اٹھایا اور گرو تھ کرنے لگی۔امپورٹڈ حکمرانوں کی کارکردگی کی بدولت ہم ڈیفالٹ کی طرف جا رہے ہیں۔سٹاک ایکسچینج گرنے سے اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔انڈسٹری پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ سپر ٹیکس کا بوجھ بھی غریب عوام کو اٹھانا ہوگا۔ گیس کے بلوں میں 45 فیصد اضافہ ہوگا۔ جس سے عوام کی جیبو ں پر بوجھ پڑے گا۔ 15 فیصد تنخواہ بڑھائی اور 80 ارب کے ٹیکس لگائے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہمارا حکومت سے بیک ڈور کوئی رابطہ نہیں۔نئے الیکشن کی تاریخ ملنے کے بعد الیکشن ریفارمز پر بات ہوسکتی ہے۔ضمنی انتخابات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہمارے دفتر اور ورکرز پر ن لیگ والے حملے کررہے ہیں۔ جس سے حالات خراب ہو سکتے ہیں۔ انتظامیہ ایکشن لے اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا چین ہمارا پرانا اور اچھا دوست ہے۔ ہمارے دور حکومت میں چین نے ہر چھوٹے بڑے ایونٹ پر پاکستان کو بلایا۔ اب امپورٹڈ حکمرانوں کی کامیاب خارجہ پالیسی ہے کہ چین جیسے دوست نے اہم ایونٹ پر پاکستان کو نہیں بلایا۔انہوں نے کہا امریکہ کے خلاف جتنا اب سامنے آیا اتناپہلے کبھی نہیں ہوا۔ ہماری وزارت خار جہ کی تو کانپیں ٹانگتی ہیں۔ یہ انہیں آقا سمجھتے ہیں۔ اور یہ ہمیں سمجھتے ہیں یہ چونٹیاں ہیں۔ رینگتی ہیں۔یہ غلام ہیں۔ تحریک انصاف کہتی ہے نہیں ایسا نہیں ہم شاہین کی طرح پرواز کریں گے۔ غلامی قبول نہیں #
گیارہ جماعتی اتحاد میں دراڑیں واضح ہو چکی ہیں،شاہ محمود قریشی








